30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
87 -[9] وَعَن عمرَان بن حصين: إِن رجلَيْنِ من مزينة أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشِيءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فيهم من قدر قد سَبَقَ أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَا بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (وَنَفْسٍ وَمَا سواهَا فألهمها فجورها وتقواها) رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عمر ان ابن حصین سے ۱؎ کہ مزینہ کے دوشخصوں نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ فرمایئے تو کہ جو کچھ لوگ آج عمل کررہے ہیں اور جن میں مشغول ہیں کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا ان پر فیصلہ ہوچکا ہے اور جس چیز کی تقدیر ان میں گزر چکی ہے یا اس میں ہے جسے آیندہ کریں گے جو ان کے پاس پیغمبر لائے جو دلیل ان پر قائم ہوچکی ۲؎ حضور نے فرمایا نہیں بلکہ عمل وہ چیز ہے جس کا ان پر فیصلہ ہوچکا اور تقدیر گزر چکی ۳؎ اس کی تائید اﷲ کی کتاب میں بھی موجود ہے۔قسم جان کی اور اس کے درست فرمانے کی اور اس کی کہ اس کے دل میں ڈال دی بدکاری و پرہیزگاری ۴؎(مسلم) |
۱؎ آپ کی کنیت ابونجید ہے،خزاعی ہیں،کعبی ہیں،خیبر کے سال حضرت ابوہریرہ کے ساتھ ایمان لائے،بصرہ میں قیام رہا، ۵۲ ھ میں وہیں انتقال ہوا،جلیل القدرصحابی ہیں،آپ ۳۰ سال بیمار رہے،اس زمانے میں آپ کو فرشتے سلام کرنے آتے تھے۔(مرقات واشعہ)
۲؎ خلاصۂ سوال یہ ہے کہ آیا تحریر پہلے ہے اورتقصیر بعد میں یا اس کا عکس کہ پہلے ہم خود کام کرلیتے ہیں پھر آیندہ لکھا جاتا ہے،تحریر سے مراد تحریر تقدیر ہے نہ کہ نامۂ اعمال کی تحریر،کہ یہ لکھائی تو یقینًا عمل کرلینے کے بعد ہی ہوتی ہے۔خیال رہے کہ قدریہ کاعقیدہ یہ ہے کہ قضاوقدر کچھ چیزنہیں،نہ پہلے کچھ لکھا گیا ہے۔ہم مستقلًا قادرمطلق ہوکر اعمال کرتے ہیں پھر ان کی تحریر ہوتی ہے یہ سخت بے دینی ہے۔
۳؎ یعنی ہمارے اعمال اس تحریروتقدیر کے بعداس کے مطابق ہیں اس کا عکس نہیں یہی مذہب اہلسنت ہے۔
۴؎ وجہ استدلال یہ ہے کہ یہاں"اَلھَمَ"ماضی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ الہام عملی سے کہیں پہلے ہوچکا ہے۔
|
88 -[10] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ شَابٌّ وَأَنَا أَخَافُ عَلَى نَفْسِي الْعَنَتَ وَلَا أَجِدُ مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ النِّسَاءَ كأَنَّهُ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الِاخْتِصَاءِ قَالَ: فَسَكَتَ عَنِّي ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ فَسَكَتَ عَنِّي ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ فَسَكَتَ عَنِّي ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ فَاخْتَصِ على ذَلِك أَو ذَر» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ میں جوان آدمی ہوں اور اپنے نفس پر زنا سے ڈرتا ہوں اور نکاح کرنے کی قدرت نہیں پاتا ۱؎ ہوں شاید وہ حضور سے خصی ہونے کی اجازت چاہتے تھے ۲؎ فرماتے ہیں کہ حضور خاموش رہے میں نے پھر وہی کہا آپ پھر خاموش رہے میں نے پھر وہی کہا پھر سرکار خاموش رہے ۳؎ میں نے پھر اسی طرح کہا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ قلم قدرت وہ چیز لکھ کر سوکھ بھی چکا جو تم پانے والےہوخواہ اب خصی ہو یا رہنے دو۴؎ (بخاری) |
۱؎ یعنی بیوی کے نان نفقہ اورمہر پربھی قادرنہیں ہوں چہ جائیکہ لونڈی خرید سکوں۔
مسئلہ:جوشخص حقوق زوجین ادا کرنے پر قادر نہ ہو اسے نکاح ممنوع ہے حقوق میں قوت اور قدرتِ مال سبھی داخل ہیں۔
۲؎ یہ کسی راوی کا قول ہے یعنی ابوہریرہ کی یہ عرض و معروض اس لیئے تھی کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم ان کو خصّی ہوجانے کی اجازت دے دیں تاکہ زنا کا احتمال ہی باقی نہ رہے،صحابہ کرام کا یہ انتہائی تقویٰ ہے کہ معصیت پر مصیبت کو ترجیح دیتے ہیں خصی ہوکر اپنے کو ناقص و فاسد کرلینا منظور ہے مگر فاسق بننا منظور نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع