30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
86 -[8] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي وَالْفَرْجُ يصدق ذَلِك كُله ويكذبه» وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَا مُدْرِكٌ ذَلِكَ لَا محَالة فالعينان زِنَاهُمَا النَّظَرُ وَالْأُذُنَانِ زِنَاهُمَا الِاسْتِمَاعُ وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلَامُ وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْخُطَا وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى وَ يُصَدِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ وَيُكَذِّبُهُ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی نے ہر آدمی پر اس کا زنا کا حصہ لکھا ہے ۱؎ جسے وہ یقینًا پائے گا لہذا آنکھ کا زنا نظر بد ہے ۲؎ اور زبان کا زنا گفتگو۳؎ ہے دل تمنا اور خواہش کرتا ہے شرمگاہ اس خواہش کو سچا جھوٹا کردیتی ہے۔(مسلم،بخاری)اورمسلم کی روایت میں ہے کہ اولاد آدم پر زنا کا حصہ لکھا جاچکا ہے جسے وہ یقینًا پائے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا۴؎ اور زبان کا زنا گفتگو ہے،ہاتھ کا زنا چھونا،پکڑنا،پاؤں کا زنا قدم سے چلنا ۵؎ دل چاہتا ہے اورتمنا کرتا ہے شرمگاہ اسے سچا جھوٹا کردیتی ہے ۶؎ |
۱؎ یہاں ہر آدمی سے عام انسان مراد ہے جس سے بچپن میں فوت ہوجانے والے بچے،خاص اولیاء سارے انبیائےکرام خصوصًا یحیی و عیسیٰ علیہم السلام علیحدہ ہیں،جو حضرات انبیاء کو اس میں داخل مانے وہ بے دین ہے۔مطلب یہ ہے کہ عمومًا انسان زنا یا مقدماتِ زنا میں پھنستے ہیں۔رب تعالٰی کا فضل ہے کہ اعضاء کی غیر اختیاری حرکتوں اور گندے خیالات پرپکڑ نہیں فرماتا۔حضرت شیخ نے اشعہ میں فرمایا کہ زنا کے حصے سے مراد اسباب زنا ہیں اس طرح کہ انسان میں شہوت اورعورتوں کی طرف میلان قدرتی طور پر پیدا کیا گیا ہے مگر جسے اﷲ چاہے اس سے بچائے۔خیال رہے کہ یوسف علیہ السلام کے قلب پاک میں اس خاص موقعہ پر زلیخا کی طرف میلان بھی نہ پیدا ہوا۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَہَمَّ بِہَا لَوْلَاۤ اَنۡ رَّاٰبُرْہٰنَ رَبِّہٖ"یعنی وہ بھی مائل ہوجاتے اگر رب کی دلیل نہ دیکھ لیتے۔
۲؎ غیرعورتوں پرشہوت سے۔خیال رہے کہ اچانک نگاہ معاف ہے عمدًا دیکھنے پر پکڑ ہے،یہاں دوسری نظر مراد ہے۔
۳؎ اجنبی عورتوں کے حسن و جمال کی تعر یف زبان کا زنا ہے،اسے شوق سے سننا لذت کے لیے کان کا زنا ہے،بعض عورتیں اپنے خاوندوں سے دوسری عورتوں کا حسن بیان کرتی ہیں یہ سخت جرم ہے۔
۴؎ کان لگا کر توجہ سے اسی لیے یہاں"استماع"باب"افتعال"سے فرمایا گیا۔
۵؎ خلاصہ یہ ہے کہ ایک زنا بہت سے چھوٹے چھوٹے زناؤں کا مجموعہ ہے۔ہر عضو کا زنا علیحدہ ہے،زانی بوقتِ زنا آنکھ،کان،زبان،ہاتھ،پاؤں،شرمگاہ سب ہی کا زنا کرتا ہے اسی لیے سنگسار کیا جاتا ہے،صرف خصّی نہیں کیا جاتا۔
۶؎ لہذا انسان کو چاہیے کہ مقدماتِ زنا سے بھی بچے،سینما،مروجہ ریڈیو پرفلمی گیتوں کی نشرو اشاعت کا انجام دیکھا جارہا ہے۔مرقات میں ہے کہ اجنبیہ عورتوں کو ناجائز خطوط لکھنا یا پہنچانا اُدھرکنکر پھینکنا اشارےکرنا سب ہاتھ کے زنا ہیں۔
|
87 -[9] وَعَن عمرَان بن حصين: إِن رجلَيْنِ من مزينة أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشِيءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فيهم من قدر قد سَبَقَ أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَا بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (وَنَفْسٍ وَمَا سواهَا فألهمها فجورها وتقواها) رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عمر ان ابن حصین سے ۱؎ کہ مزینہ کے دوشخصوں نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ فرمایئے تو کہ جو کچھ لوگ آج عمل کررہے ہیں اور جن میں مشغول ہیں کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا ان پر فیصلہ ہوچکا ہے اور جس چیز کی تقدیر ان میں گزر چکی ہے یا اس میں ہے جسے آیندہ کریں گے جو ان کے پاس پیغمبر لائے جو دلیل ان پر قائم ہوچکی ۲؎ حضور نے فرمایا نہیں بلکہ عمل وہ چیز ہے جس کا ان پر فیصلہ ہوچکا اور تقدیر گزر چکی ۳؎ اس کی تائید اﷲ کی کتاب میں بھی موجود ہے۔قسم جان کی اور اس کے درست فرمانے کی اور اس کی کہ اس کے دل میں ڈال دی بدکاری و پرہیزگاری ۴؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع