30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۱؎ یعنی ملامت کے انداز میں گفتگو کررہے ہو ورنہ موسیٰ علیہ السلام آپ کو نہ ملامت کرسکتے تھے نہ کی۔بیٹے کو باپ پر خصوصًا بنی باپ پرشاگردکو استاد پر ملامت کرنے کا حق نہیں۔
۱۲؎ اور رب تعالٰی نے بھی اس کی معافی کا اعلان فرمادیا۔خیال رہے کہ یہاں موسیٰ علیہ السلام کی نظر ظاہر پر تھی اور آدم علیہ السلام کا جواب حقیقت پرمبنی ہے آج ہم جیسے گنہگار تقدیر کی آڑ لےکر اپنے گناہوں سے بری نہیں ہوسکتے،یعنی اے موسیٰ!میری یہ خطا اور جنت سے زمین پر آنا،یہاں یہ باغ و بہار لگانا سب رب تعالٰی کے ارادہ اور اسکی مرضی سے تھا جس میں ہزاروں اسرار تھے تم صاحبِ اسرار ہو کر مجھ سے یہ سوال کیوں کرتے ہو؟۔
۱۳؎ کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سوال شریعت پر اور حضرت آدم کا جواب حقیقت پر مبنی ہے حقیقت غالب رہتی ہے،حقیقت والے خضر علیہ السلام نے بچے کو بلا گناہ قتل کردیا اور ان پرکوئی فتویٰ جاری نہ ہوا۔
|
82 -[4] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَن عبد الله بن مَسْعُود قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِق المصدوق: «إِن أحدكُم يجمع خلقه فِي بطن أمه أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثمَّ يكون فِي ذَلِك علقَة مثل ذَلِك ثمَّ يكون فِي ذَلِك مُضْغَة مثل ذَلِك ثمَّ يُرْسل الْملك فينفخ فِيهِ الرّوح وَيُؤمر بِأَرْبَع كَلِمَات بكتب رزقه وأجله وَعَمله وشقي أَو سعيد فوالذي لَا إِلَه غَيره إِن أحدكُم لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا» |
روایت ہےحضرت ابن مسعودسے فرماتےہیں کہ سچے مصدوق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردی ۱؎ کہ تم میں سے ہر ایک کا مادہ پیدائش ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ رہتاہے پھراسی قدرخون کی پھٹک پھر اسی قدر لوتھڑا ۲؎ پھر اﷲ تعالٰی ایک فرشتہ چار باتیں بتا کر بھیجتاہے۳؎ تو وہ فرشتہ اس کے کام اس کی موت اس کا رزق اور بدبخت ہے نیک بخت ہے سب کچھ لکھ لیتا ہے۴؎ پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے تو اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبودنہیں کہ تم میں بعض جنتیوں کے کام کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اس میں اور جنت میں صرف ایک ہاتھ فاصلہ رہ جاتا ہے ۵؎ کہ اچانک نوشتہ تقدیر اس کے سامنے آتا ہے اور دوزخیوں کے کام کرلیتا ہے ۶؎ پھر وہاں ہی پہنچتاہے اورتم میں بعض دوزخیوں کے کام کرتے ہیں یہاں تک کہ اس میں اور دوزخ میں صرف ایک ہاتھ رہ جاتا ہے کہ اس کا نوشتہ سامنے آتا ہے اور جنتیوں کے کام کرتا ہے پھر اس میں داخل ہوجاتا ہے ۷؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ صادق وہ جس کے سارے اقوال سچے ہوں،مصدوق وہ جس کے سارے اعمال سچے ہوں یا صادق وہ جوہوش سنبھال کر سچ بولے،اور مصدوق وہ جو پہلے ہی سے سچا ہو،یا صادق وہ جو واقع کے مطابق خبردے اور مصدوق وہ کہ جو وہ اپنی زبان مبارک سے کہہ دے واقعہ اُس کے مطابق ہوجائے حضور میں یہ سارے اوصاف جمع ہیں۔
۲؎ یعنی ماں کے رحم میں منی چالیس دن تک اسی حالت میں سفید رنگ کی رہتی ہے،پھر سُرخ رنگ کا خون بن جاتی ہے،پھر چالیس روز کے بعد جم کر گوشت۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں:چونکہ آدم علیہ السلام کا خمیر چالیس سال اورموسیٰ علیہ السلام کا قیام طور پر چالیس دن رہا،اس لیئے نطفہ پر ہرچلہ کے بعد انقلاب آتا ہے،پھر بعد پیدائش نفاس کی مدت چالیس دن ہے،کمال عقل چالیس سال میں ہوتا ہے۔یہ حدیث صوفیاء کے چلوں کی دلیل ہے۔اہلِ سنت میّت کا چالیسواں اسی بنا پرکرتے ہیں کہ چالیس میں انقلاب ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع