30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
81 -[3] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام عِنْدَ رَبِّهِمَا فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى قَالَ مُوسَى أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَأَسْكَنَكَ فِي جَنَّتِهِ ثُمَّ أَهَبَطْتَ النَّاسَ بِخَطِيئَتِكَ إِلَى الأَرْض فَقَالَ آدَمُ أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ وَأَعْطَاكَ الْأَلْوَاحَ فِيهَا تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ وَقَرَّبَكَ نَجِيًّا فَبِكَمْ وَجَدَتِ اللَّهِ كَتَبَ التَّوْرَاةَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ قَالَ مُوسَى بِأَرْبَعِينَ عَامًا قَالَ آدَمُ فَهَلْ وَجَدْتَ فِيهَا (وَعَصَى آدَمُ ربه فغوى) قَالَ نَعَمْ قَالَ أَفَتَلُومُنِي عَلَى أَنْ عَمِلْتُ عَمَلًا كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ أَنْ أَعْمَلَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم و موسیٰ نے اپنے رب کے نزدیک ۱؎ مناظرہ کیا تو آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب رہے حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ آپ وہ آدم ہیں جنہیں اﷲنے اپنے دستِ قدرت سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی ۲؎ اور اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا ۳؎ آپ کو جنت میں رکھا۴؎ پھر آپ نے اپنی لغزش کی وجہ سے لوگوں کو نیچے اتاردیا ۵؎ حضرت آدم نے فرمایا کہ آپ ہی وہ موسیٰ ہیں جنہیں اﷲ نے اپنی پیغمبری اور ہمکلامی کے لیئے چنا ۶؎ اور آپ کوتختیاں بخشیں جن میں ہر چیز کاکھلا بیان ہے ۷؎ اور ایک کوخصوصی ہمکلامی سے قرب بخشا فرمایئے کہ آپ نے میری پیدائش سے کتنے پہلے توریت کو پایا کہ رب نے لکھ دیا تھا۸؎ حضرت موسیٰ نے فرمایا چالیس سال پہلے۹؎ حضرت آدم نے فرمایا تو کیا آپ نے توریت میں یہ بھی دیکھا ۱۰؎ کہ آدم نے اپنے رب کی فرمانبرداری سےلغزش کی تو کامیاب نہ ہوئے فرمایا ہاں آپ نے فرمایا کیا آپ اس لغزش پر ملامت کرتے ہیں ۱۱؎ جس کا کرلینا میرے مقدر میں میری پیدائش سے چالیس سال پہلے لکھا جاچکا تھا ۱۲؎ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ حضرت آدم موسیٰ علیہ السلام پر غالب رہے۱۳؎ (مسلم) |
۱؎ یا تو عالم ارواح میں،یا موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں آدم علیہ السلام کو زندہ فرما کر اور ان سے ملاقات کرا کے،یا اس طرح کہ حضائرقدس میں اُن کی ملاقات ہوئی۔مرقات میں ہے کہ انبیائے کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں نمازیں پڑہتے ہیں۔دیکھو ہمارے حضور نے معراج میں تمام نبیوں سے ملاقات کی اور انہیں نماز پڑھائی۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور کی نگاہ عالم ارواح پر بھی ہے کہ وہاں کے حالات ملاحظہ فرماتے اور لوگوں کو سناتے ہیں کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ حضور یہ دیکھا ہوا واقعہ بیان فرمارہے ہیں۔
۲؎ یعنی آپ کا جسم شریف بلاواسطہ فرشتہ اور بغیرتوسل ماں باپ دستِ قدرت سے بنایا اور اپنے تمام کمالات کا مظہر کیا اور اپنی پیدا کی ہوئی روح آپ کے جسم میں جاری فرمائی۔یہاں اضافت شرافت کی ہے ورنہ خدائے تعالٰی خود روح سے پاک ہے،حقیقتِ روح رب ہی جانے مگر معلوم ہوتا ہے کہ وہ پھونکنے کے قابل چیز ہے کیونکہ ہر جگہ اس کے لیئے پھونکنے کا لفظ ہی آتا ہے۔اولیاء اﷲ کا جھاڑ پھونک ان جیسی احادیث اور آیات سے ماخوذ ہے۔
۳؎ سارے فرشتوں سے مقربین ہوں،یا مدبّراتِ امر،زمین کے ہوں یا آسمان کے،تعظیمی سجدہ زمین پر پیشانی رکھ کر نہ فقط رکوع اور نہ صرف جھکنا۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ "یہ سجدۂ عبادت نہ تھا کہ خدا کو ہوتا اور آدم علیہ السلام قبلہ ہوتے جیسا کہ لَكَ کے لام سے معلوم ہوا،ورنہ شیطان کبھی ا س سے انکار نہ کرتا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع