30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
76 -[14] عَن أنس بن مَالك يَقُولَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ يَبْرَحَ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ حَتَّى يَقُولُوا هَذَا الله خَالق كل شَيْء فَمن خلق الله» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَ لِمُسْلِمٍ: " قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجل: إِن أمتك لَا يزالون يَقُولُونَ: مَا كَذَا؟ مَا كَذَا؟ حَتَّى يَقُولُوا: هَذَا اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجل؟ " |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگ پوچھتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہہ بیٹھیں گے کہ اﷲ نے ہرچیز پیدا کی تو اﷲکو کس نے پیدا کیا یہ بخاری کی روایت ہے اورمسلم کی روایت میں ہے کہ فرماتے ہیں اﷲ عزوجل نے فرمای کہ یقینًاتمہاری امت ۱؎ کہتی رہے گی یہ کیسا یہ کیسا ۲؎ یہاں تک کہ یہ کہہ دیں گے کہ اﷲ نے مخلوق پیدا کی اﷲ کو کس نے پیدا کیا؟ |
۱؎ یعنی امتِ دعوت دہریے کفّار وغیرہ نہ کہ امت اجابت مؤمن ین۔یا کہنے سے مراد دلی وسوسہ ہے،تو امت اجابت بھی داخل ہے۔
۲؎ یعنی ہر حکم کی وجہ،ہر چیز کی کُنہہ پوچھیں گے۔قیل قال زیادہ حال سے خالی۔خیال رہے کہ ہمارے پاس " کیوں"ہے ان کے پاس کیا تھا۔
|
77 -[15] عَن عُثْمَان بن أبي الْعَاصِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ حَالَ بيني وَبَين صَلَاتي وقراءتي يُلَبِّسُهَا عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ شَيْطَانٌ يُقَالُ لَهُ خِنْزِبٌ فَإِذَا أَحْسَسْتَهُ فَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْهُ وَاتْفُلْ عَلَى يسارك ثَلَاثًا قَالَ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَهُ اللَّهُ عَنِّي» . رَوَاهُ مَسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت عثمان ابن ابی العاص ۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ شیطان مجھ میں اور میری نماز اور تلاوت میں حائل ہوگیا نماز مشتبہ کردی ۲؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شیطان کو خنزب کہا جاتا ہے ۳؎ جب کبھی تم اسے محسوس کرو تو اس سے اﷲ کی پناہ مانگو اور بائیں طرف تین بار دھتکار دو۴؎ میں نے یہ ہی کیا تو اﷲ نے اسے دفع فرمادیا ۵؎ (مسلم) |
۱؎ آپ قبیلہ بنی ثقیف کے ہیں،آپ کی والدہ حضور کی پیدائش کے وقت آمنہ خاتون کے پاس تھیں،حضور نے آپ کو طائف کا حاکم بنایا۔چنانچہ آپ عہد فاروقی تک وہیں کے حاکم رہے،پھرحضرت فاروق اعظم نے اپنی خلافت کے تیسرے سال وہاں کی حکومت معزول کرکے عمّان اور بحرین کا حاکم بنایا، ۱۰ ھہجری میں جب وفد بنی ثقیف حضور کی خدمت میں ایمان لانے کے لیئے حاضرہوا تو اس میں آپ بھی تھے اس وقت آپ کی عمر ۲۹ سال تھی،آخری عمر میں بصرہ قیام گاہ رہا، ۵۱ھ میں وہیں وفات پائی۔۷۰سال عمرشریف ہوئی، حضور کی وفات کے بعد جب بنی ثقیف مرتد ہونے لگے تو آپ نے فرمایا:اےقوم!تم آخری مؤمنین ہو،اب اولین مرتدین کیوں بنتے ہو؟
۲؎ اس طرح کہ نہ مجھے پڑھی ہوئی رکعتیں یاد رہیں اور نہ یہ کہ رکعت اوّل میں کیا پڑھا تھا۔معلوم ہوا کہ نماز میں وسوسے بزرگوں کو بھی ہوجاتے ہیں۔
۳؎ خنزب خ کے کسرہ یا فتح سے اور ز کے فتح سے بمعنے سڑا ہوا گوشت یا دائمی جرم۔(قاموس) یہ شیطان کی اُس ذریت کا نام ہے جو نمازیوں پر نماز مشتبہ کرتی ہے۔
۴؎ نماز شروع کرتے وقت تکبیر تحریمہ سے قبل تجربہ ہے کہ جو تحریمہ سے پہلے اس طرح تھتکار کر لاحول شریف پڑھ لے پھر تحریمہ کرے دورانِ نماز میں نگاہ کی حفاظت کرے کہ قیام میں سجدہ گاہ،رکوع میں پشتِ قدم،سجدہ میں ناک کے بانسے،جلسہ اورقعدہ میں گود میں رکھے تو ان شاءاﷲ نماز میں حضور نصیب ہوگا۔
۵؎ یعنی یہ حدیث میری مجرب بھی ہے،محدثین کے نزدیک تجربہ کی تائید سے حدیث قوی ہوجاتی ہے۔دیکھو ہماری کتاب "جاء الحق" حصہ دوم۔
|
78 -[16] وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: «إِنِّي أهم فِي صَلَاتي فيكثر ذَلِك عَليّ فَقَالَ الْقَاسِم بن مُحَمَّد امْضِ فِي صَلَاتك فَإِنَّهُ لن يذهب عَنْكَ حَتَّى تَنْصَرِفَ وَأَنْتَ تَقُولُ مَا أَتْمَمْتُ صَلَاتي» . رَوَاهُ مَالك |
روایت ہے حضرت قاسم ابن محمد سے ۱؎ کہ ان سے کسی شخص نے پوچھا(عرض کیا)میں اپنی نماز میں وہم کیا کرتا ہوں اور یہ واردات مجھ پر بہت ہوتی رہتی ہے فرمایا اپنی نماز پڑھگزرو کیونکہ یہ وہم تو جائے گا نہیں حتی کہ تم یہ کہتے ہوئے نماز ختم کرو گے کہ میری نماز مکمل نہ ہوئی ۲؎ (مالک) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع