30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی ہر عاقل بالغ انسان کے ساتھ وسوسہ دلانے کے لیئے ایک شیطان اور الہام کے لیئے ایک فرشتہ ہر وقت رہتا ہے۔مرقاۃ اور اشعۃ اللمعات میں ہے کہ جب کوئی انسان کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو ا س کے ساتھ ہی ابلیس کے ایک شیطان پیدا ہوتا ہے جسے فارسی میں ہمزاد عربی میں وسواس کہتے ہیں۔ظاہر یہ ہے کہ ابلیس کے ہر ہر آن سیکڑوں بچے پیدا ہوتے رہتے ہیں،مطابق تعداد اولاد انسان جیسے مچھلی،ناگن سانپ بیک وقت ہزار ہا انڈے دیتی ہے۔طاغوتی جراثیم ہر آن بچے دیتے رہتے ہیں۔
۲؎ ایک فرشتہ مقررہےملہم اور ایک شیطان۔
۳؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں اسلام سے مراد ایمان ہی ہے نہ کہ اطاعت اور یہ حضور کی اعلٰی درجہ کی خصوصیت ہے کہ آپ کا شیطان جس کی فطرت میں کفر داخل ہے وہ بھی ایمان لے آیا۔معلوم ہوا کہ نگاہِ کرم سے فطرتیں بدل جاتی ہیں۔مرقاۃ میں ہے کہ ہامہ ابن ابلیس نےحضور کی خدمت میں عرض کیا کہ قتل ہابیل کے وقت میں موجود تھا،سارے انبیاء کے ساتھ رہا ہوں آپ مجھے کچھ قرآن سکھایئے آپ نے اسے سورۂ واقعہ،مرسلات،نباء،اخلاص،فلق اورناس سیکھائیں۔جنات کا حضور پر ایمان لانا تو قرآن کی سورۂ جن میں مذکور ہے حالانکہ سارے جن ابلیس کی اولاد ہیں ربّ فرماتا ہے:"کَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ کَانَ مِنَ الْجِنِّ "لہذا چکڑالوی اس حدیث پر اعتراض نہیں کرسکتے۔
|
68 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الانسان مجْرى الدَّم» |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شیطان انسان کے خون کے ٹھکانوں میں گردش کرتا ہے ۱؎ (بخاری،مسلم) |
۱؎ یا تو خود ابلیس اور قرین شیطان چونکہ وہ آتشی ہے۔اس لیے بلا تکلف انسان کے رگ و پے میں سرایت کرجاتا ہے اور تصرّف کرتا ہے یا اس کے وسوسے اور خیالات۔معلوم ہوا کہ کوئی شخص بغیر فضل الٰہی شیطان سے نہیں بچ سکتا۔
|
69 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَوْلُودٌ إِلَّا يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ حِينَ يُولَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ غَيْرَ مَرْيَمَ وَابْنِهَا» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی آدمی زادہ ایسا نہیں ۱؎ جسے پیدائش کے وقت شیطان چھوتا نہ ہو وہ بچہ شیطان کے چھونے سے ہی چیختا ہے ۲؎ سواء مریم اور ان کے فرزند کے۳؎ (بخاری و مسلم) |
۱؎ یعنی حضرت آدم و حوا کو شیطان مس نہ کرسکا کیونکہ وہ آدمی زادہ نہیں ہیں۔
۲؎ اس سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مستثنیٰ ہیں۔ایسے مقام پر متکلم مستثنیٰ ہوتا ہے۔تحقیق سے ثابت ہے کہ حضور روتے ہوئے پیدا نہ ہوئے۔(از اشعۃ للمعات)
۳؎ عیسیٰ علیہ السلام یعنی ان دونوں بزرگوں کو شیطان نہ چھو سکا جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ پیدائش کے وقت شیطان بچے کی کوکھ میں انگلی مارتا ہے جس کی تکلیف سے بچہ چیختا ہے۔ان دونوں بزرگوں کی پیدائش کے وقت بھی شیطان نے یہ حرکت کی مگر اس کی انگلی حجاب میں لگی جو رب نے ان کے اور اس کے درمیان میں پیدا کردیا تھا۔اس حدیث کی تائید قرآن پاک کی اس آیت سے ہے۔:قَالَتْ اِنِّیۡۤ اُعِیۡذُہَابِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ "۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع