30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ وسوسہ کے لغوی معنی ہیں نرم آواز۔اصطلاح میں برے خیالات،فاسد فکر کو وسوسہ کہتے ہیں اور اچھے خیالات کو الہام۔وسوسہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے،الہام رب کی طرف سے۔حق یہ ہے کہ غیر نبی کا الہام شرعی حجت نہیں کیونکہ شبہ ہے کہ وہ شیطانی وسوسہ ہو۔(از مرقات واشعۃ اللمعات)
|
63 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا وَسْوَسَتْ بِهِ صُدُورُهَا مَا لم تعْمل بِهِ أَو تَتَكَلَّم» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یقینًا اﷲ تعالٰی نے میری امت سے ان کے دلی خطرات میں درگزر فرمادی ۱؎ جب تک کہ اس پر کام یا کلام نہ کرلیں ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی بُرے خیالات پر پکڑ نہیں یہ اس امت کی خصوصیّت ہے۔پچھلی اُمتوں میں اس پر بھی پکڑ تھی۔خیال رہے کہ بُرے خیالات اور ہیں،بُرا ارادہ کچھ اور،بُرے ارادے پر پکڑ ہے حتّی کہ ارادۂ کفر،کفر ہے۔شیخ عبد الحق فرماتےہیں کہ جو بُرا خیال دل میں بے اختیار اچانک آجاتا ہے اسے ہاجس کہتے ہیں یہ آنی فانی ہوتا ہے۔آیا اور گیا یہ پچھلی امتوں پر بھی معاف تھا ہم کو بھی معاف۔لیکن جو دل میں باقی رہ جائے وہ ہم پر معاف ہے اُن پر معاف نہ تھا اور اگر اس کے ساتھ دل میں لذت اور خوشی پیدا ہواسے ھمّ کہا جاتا ہے۔اس پر بھی پکڑ نہیں اور اگر اس کے ساتھ کر گزرنے کا ارادہ بھی ہو تو وہ عزم ہے اس کی پکڑ ہے۔خیال رہے کہ ارادۂ گناہ اگرچہ گناہ ہے مگر اس پر حد نہیں۔ارادۂ زنا گناہ ہے،مگر زنا نہیں۔
۲؎ یعنی قولی گناہ میں کلام کا اعتبار ہے اور فعلی میں کام کا۔
|
64 -[2] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ: إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ. قَالَ: «أَو قد وجدتموه» قَالُوا: نعم. قَالَ: «ذَاك صَرِيح الْإِيمَان» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہیں سےفرماتے ہیں کہ حضور کے صحابہ میں سے کچھ حضرات حضورصلی اللہ علیہ سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھنے لگے کہ ہم اپنے دلوں میں ایسے خیالات محسوس کرتے ہیں کہ انہیں بیان کرنا بہت بڑا گناہ معلوم ہوتا ہے ۱؎ فرمایاکہ کیا تم نے یہ بات پائی ہے ۲؎ عرض کیا ہاں فرمایا یہ کھلا ہوا ایمان ہے۳؎ (مسلم) |
۱؎ یہ صحابہ کے کمال ایمان کی دلیل ہے کہ وسوسہ پر عمل کرنا تو کیا معنی اسے زبان پر لاتے بھی گھبراتے ہیں۔
۲؎ وسوسہ آیا اُسے بڑا برا سمجھنا۔
۳؎ یعنی وسوسے آنا کمال ایمان کی دلیل ہےکیونکہ چوربھرے گھر میں ہی جاتا ہے اورشیطان مؤمن کی فکر میں زیادہ رہتا ہے۔حضرت علی مرتضیٰ فرماتے ہیں:کہ جونماز وسوسہ سے خالی ہو وہ نماز یہودونصاریٰ کی ہے۔(مرقات)یا وسوسوں کو بُراسمجھنا عین ایمان ہےکیونکہ کافرتو انہیں اچھا سمجھ کر اس پر ایمان لے آتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع