30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
61 -[13] عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ قَالَ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتُ وَلَا تَعُقَّنَّ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَإِنَّ مَنْ تَرَكَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا فَإِنَّهُ رَأَسَ كُلِّ فَاحِشَةٍ وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ فَإِنَّ بالمعصية حل سخط الله عز وَجل وَإِيَّاكَ وَالْفِرَارَ مِنَ الزَّحْفِ وَإِنْ هَلَكَ النَّاسُ وَإِذا أصَاب النَّاس موتان وَأَنت فيهم فَاثْبتْ وَأنْفق عَلَى عِيَالِكَ مِنْ طَوْلِكَ وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمْ عَصَاكَ أَدَبًا وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ |
روایت ہے حضرت معاذ سے فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس چیزوں کی وصیّت فرمائی ۱؎ فرمایا رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ مانو اگرچہ ماردئیے جاؤ یا جلا دیئے جاؤ ۲؎ اپنے ماں باپ کی نافرمانی نہ کرو اگرچہ وہ تمہیں اپنے گھر بار اور مال سے نکل جانے کا حکم کریں۳؎ فرض نماز عمدًا ہر گز نہ چھوڑو کیونکہ جو کوئی دانستہ نماز چھوڑ دے اس سے اﷲ کا ذمہ و ضمان جاتا رہا ۴؎ شراب ہرگز نہ پیو کہ یہ ہر بدکاری کا سر ہے ۵؎ گناہ سے اپنے کو بچاؤ کیونکہ گناہ کی وجہ سے اﷲ کی ناراضی نازل ہوتی ہے ۶؎ جہاد سے بھاگ جانے سے بچو اگرچہ لوگ ہلاک ہوجائیں ۷؎ اور جب لوگوں کو وبائی موت پہنچے اور تم ان میں ہو تو ثابت قدم رہو۸؎ اپنے بال بچوں پر اپنی کمائی سے خرچ کرو ۹؎ اپنی تربیت کی قمچی ان سے نہ ہٹاؤ ۱۰؎ انہیں اﷲسے ڈراتے رہو۔(احمد) |
۱؎ یعنی تاکیدی حکم دیا عربی میں تاکیدی حکم کو وصیت کہا جاتا ہے۔رب فرماتا ہے:"یُوۡصِیۡکُمُ اللہُ فِیۡۤ اَوْلٰدِکُمْ"۔
۲؎ خطرۂ جان کے وقت جان دے دو مگر دل سے کفر و شرک نہ کرو یہ کسی حال میں جائز نہیں،خطرۂ جان کے وقت زبان سے کفربک دینا بشرطیکہ دل میں ایمان ہو جائز ہے۔رب فرماتاہے:"اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمٰنِ"یہاں دلی کفر مراد ہے۔لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں،نیز جوکوئی جان دے دے اور کلمۂ کفریہ نہ کہے تو اجر کا مستحق ہے۔جان دے دینا عزیمت ہے اور جان بچانا رخصت اگر حدیث کا یہ مطلب ہو تو حضور نے حضرت معاذکو عزیمت کا حکم دیا۔
۳؎ یہ حکم استحبابی ہے۔والدین کے حکم پر بیوی کو طلاق دے دینا مستحب ہے،اسمعیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اشارہ پاکر طلاق دے دی یہ مستحب پر عمل تھا مگر باپ کے حکم سے بیوی یا بچوں پر ظلم نہ کرے کہ ظلم سے بچنا اﷲ ورسول کا حکم ہے،انکا حکم ماں باپ کے حکم پر مقدم ہے،ایسے ہی اگر ماں باپ کفر یا معصیت کا حکم دیں تو نہ مانے۔رب فرماتاہے:"وَ اِنۡ جٰہَدَاکَ عَلٰۤی اَنۡ تُشْرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ۙ فَلَا تُطِعْہُمَا "۔
۴؎ یعنی بے نمازی اﷲ کی امن میں نہیں رہتا۔نماز کی برکت سے انسان دنیا میں آفتوں سے،مرتے وقت خرابی خاتمہ سے،قبر میں فیل ہونے سے،حشر میں مصیبتوں سے بفضلہٖ تعالٰی امن میں رہتا ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ وظیفے،عملیات،تعویذوں کے فائدے حاصل کرنے کیلئے پابندی نماز ضروری ہے۔شیخ و مرید دونوں کو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع