30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
58 -[10] عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ لصَاحبه اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِي فَقَالَ صَاحِبُهُ لَا تَقُلْ نَبِيٌّ إِنَّهُ لَوْ سَمِعَكَ كَانَ لَهُ أَرْبَعَة أَعْيُنٍ فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَاهُ عَنْ تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ فَقَالَ لَهُم: «لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِيَقْتُلَهُ وَلَا تَسْحَرُوا وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا وَلَا تَقْذِفُوا مُحصنَة وَلَا توَلّوا الْفِرَار يَوْمَ الزَّحْفِ وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً الْيَهُودَ أَنْ لَا تَعْتَدوا فِي السبت» . قَالَ فقبلوا يَده وَرجله فَقَالَا نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ قَالَ فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تتبعوني قَالُوا إِن دَاوُد دَعَا ربه أَن لَا يزَال فِي ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ وَإِنَّا نَخَافُ إِنْ تَبِعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا الْيَهُودُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ |
روایت ہے حضرت صفوان ابن عسال سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ یہودی اپنے ساتھی سے بولا کہ مجھے ان نبی کے پاس لے چل ساتھی بولا کہ انہیں نبی نہ کہو ۲؎ اگر وہ سن لیں گے تو انکی چار آنکھیں ہوجائیں گی ۳؎ پھر وہ دونوں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کھلی نشانیوں کے بارے میں پوچھا ۴؎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ کسی چیز کو اﷲ تعالٰی کا شریک نہ ٹھہراؤ ۵؎ نہ چوری کرو،نہ زنا کرو،نہ ناحق کسی محترم جان کو قتل کرو،نہ کسی بےقصورکو حاکم کے پاس لے جاؤ تاکہ اسے قتل کردے ۶؎ اور نہ جادو کرو نہ سود کھاؤ۷؎ نہ پاکدامن کو زنا کا بہتان لگاؤ،نہ جہاد کے دن بھاگنے کے لئے پیٹھ پھیرو۸؎ اور اے یہودیو تم پر خصوصًا یہ بھی لازم ہے کہ ہفتہ کے بارے میں حد سے نہ بڑھو ۹؎ راوی فرماتے ہیں کہ تب ان دونوں نے حضور کے ہاتھ پاؤں چومے۱۰؎ اور بولےہم گواہ ہیں کہ آپ سچے نبی ہیں ۱۱؎ حضور نے فرمایا پھر تمہیں میری پیروی سے کون چیز روکتی ہے ۱۲؎ وہ بولے کہ داؤد علیہ السلام نے رب سے دعا کی تھی کہ انکی اولادمیں نبوت رہے۱۳؎ ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم آپ کی پیروی کر لیں تو ہم کو یہودی مار ڈالیں گے۔(ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ آپ صحابی ہیں،کوفے کے رہنے والے،قبیلہ بنی مراد سے ہیں،بارہ غزووں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔
۲؎ معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے دل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کی گواہی دیتے تھے مگر محض ضد سے انکاری تھے۔
۳؎ یعنی وہ خوش ہوجائیں گے اور یہود سے یہ کہہ سکیں گے کہ تمہارے لوگ بھی ہمیں نبی کہتے ہیں۔سبحان اﷲ! عظمت وہ جس کی دشمن بھی گواہی دیں۔
۴؎ کھلی نشانیوں سے مراد یا تو وہ نیک اعمال ہیں جو عامل کی نیک بختی کی علامت ہوں،اس صورت میں حضور کا یہ جواب سوال کے مطابق ہے،یااس سے موسیٰ علیہ السلام کے کھلے ہوئے نو معجزے مراد ہیں۔رب فرماتا ہے:"وَلَقَدْ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ"ٍ اس صورت میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا جواب حکیمانہ ہے یعنی وہ نہ پوچھو بلکہ اپنی فکر کرو اور کرنے والے اعمال پوچھو۔خیال رہے کہ انہوں نے نو چیزیں پوچھیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دس بتائیں ۹ وہ جو ہر دین کے احکام ہیں اور دسویں وہ جو دین یہود کے ساتھ خاص ہیں،یعنی ہفتہ کو شکار نہ کرنا۔
۵؎ ہوسکتا ہے کہ اس میں اشارۃً یہ بتایا گیا ہو کہ یہودی مشرک ہیں۔کیونکہ وہ حضرت عزیز علیہ ا لسلام کو اﷲ کا بیٹا مانتے ہیں۔اور بیٹا باپ کا شریک ہوتا ہے۔
۶؎ کہ یہ ڈبل جرم ہے حاکم کو دھوکہ دینا اور بے قصور کی جان لینا یہ بھی عام دینوں میں حرام رہا۔
۷؎ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سو د کسی نبی کے دین میں جائز نہ ہوا کیونکہ یہ ان اعما ل کی فہرست ہے جو تمام دینوں میں مروّج تھے۔
۸؎ یہ حکم بھی تمام دینوں میں رہا جن میں جہاد فرض تھا جن میں جہاد ہی نہ تھا وہاں یہ حکم بھی نہ تھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع