30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی یہ منافقوں کے کام ہیں۔مسلمان کوا س سے بچنا چاہئیے یہ نہیں کہ یہ جرم خود نفاق ہیں۔یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے یہ تینوں جرم کئے تھے مگر وہ نہ منافق ہوئے نہ کافر لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
|
56 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذا خَاصم فجر» |
روایت ہے عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس میں ۱؎ چار عیوب ہوں وہ نرا منافق ہے۲؎ اورجس میں ایک عیب ہو ان میں سے اس میں منافقت کا عیب ہوگا جب تک کہ اُسے چھوڑ نہ دے جب امانت دی جائےتو خیانت کرے،جب بات کرے توجھوٹ بولے،جب وعدہ کرے تو خلاف کرے،جب لڑے تو گالیاں بکے۳؎ |
۱؎ یہ حدیث پچھلی حدیث کے خلاف نہیں ایک چیز کی بہت سی علامتیں ہوتی ہیں کبھی ساری بیان کردی جاتی ہیں کبھی کم و بیش لہذا وہ تین بھی نفاق کی علامتیں تھیں اور یہ چار بھی۔
۲؎ منافق عملی یعنی منافقوں کے سے کام کرنے والا جیسے رب فرماتا ہے:"اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ " یا حضور فرماتے ہیں۔"مَنْ تَرَكَ الصَّلوٰۃَ مُتَعَمِّدًافَقَدْکَفَرَ"یعنی بے نمازی ہونا کفرعملی ہے۔(کافروں کا ساکام)
۳؎ اس سے ان لوگوں کو عبر ت پکڑنی چاہئیے جن کے ہاں تبرّا اور گلیاں بکنا عبادت بلکہ اصل ایمان ہے اسلام میں شیطان فرعون و ہامان کو بھی گالیاں دینا براہے کہ اس میں اپنی ہی زبان گندی ہوتی ہے۔
|
57 -[9] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مثل الْمُنَافِق كَمثل الشَّاة الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغُنْمَيْنِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِه مرّة» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق اس بکری کی طرح ہے جو دو بکروں کے درمیان گھومے ۱؎ (چکر لگائے)کبھی اس بکرے کے پاس پہنچ جائے کبھی اس بکرے کے پاس۔ |
۱؎ دونوں کو راضی کرنے اور دونوں سے لذّت اور نفع حاصل کرنے کے لیے جس سے اس کا بچہ ولدنامعلوم ہو۔خیال رہے کہ کافر ومؤمن سب کو راضی کرنے کی کوشش میں رہنا خطرناک بیماری ہے جس سے اس کا خود اپنا کوئی دین نہیں رہتا۔اسی لئے یہاں ایسی گندی چیزسےتشبیہ دی گئی ہے تاکہ دلوں میں اس سے نفرت پیدا ہو۔اس بیماری نفاق میں آجکل بہت سے صلح کلّی مسلمان مبتلا ہیں۔بعض عقلمندوں کے ہاں تقیہ کرکے کافر و مؤمن سب کو خوش کردینا اور ہر ایک سے نفع حاصل کرلینا عبادت ہے۔خدا ایسی شیطانی عبادت سے بچائے۔
|
58 -[10] عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ لصَاحبه اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِي فَقَالَ صَاحِبُهُ لَا تَقُلْ نَبِيٌّ إِنَّهُ لَوْ سَمِعَكَ كَانَ لَهُ أَرْبَعَة أَعْيُنٍ فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَاهُ عَنْ تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ فَقَالَ لَهُم: «لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِيَقْتُلَهُ وَلَا تَسْحَرُوا وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا وَلَا تَقْذِفُوا مُحصنَة وَلَا توَلّوا الْفِرَار يَوْمَ الزَّحْفِ وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً الْيَهُودَ أَنْ لَا تَعْتَدوا فِي السبت» . قَالَ فقبلوا يَده وَرجله فَقَالَا نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ قَالَ فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تتبعوني قَالُوا إِن دَاوُد دَعَا ربه أَن لَا يزَال فِي ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ وَإِنَّا نَخَافُ إِنْ تَبِعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا الْيَهُودُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ |
روایت ہے حضرت صفوان ابن عسال سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ یہودی اپنے ساتھی سے بولا کہ مجھے ان نبی کے پاس لے چل ساتھی بولا کہ انہیں نبی نہ کہو ۲؎ اگر وہ سن لیں گے تو انکی چار آنکھیں ہوجائیں گی ۳؎ پھر وہ دونوں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کھلی نشانیوں کے بارے میں پوچھا ۴؎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ کسی چیز کو اﷲ تعالٰی کا شریک نہ ٹھہراؤ ۵؎ نہ چوری کرو،نہ زنا کرو،نہ ناحق کسی محترم جان کو قتل کرو،نہ کسی بےقصورکو حاکم کے پاس لے جاؤ تاکہ اسے قتل کردے ۶؎ اور نہ جادو کرو نہ سود کھاؤ۷؎ نہ پاکدامن کو زنا کا بہتان لگاؤ،نہ جہاد کے دن بھاگنے کے لئے پیٹھ پھیرو۸؎ اور اے یہودیو تم پر خصوصًا یہ بھی لازم ہے کہ ہفتہ کے بارے میں حد سے نہ بڑھو ۹؎ راوی فرماتے ہیں کہ تب ان دونوں نے حضور کے ہاتھ پاؤں چومے۱۰؎ اور بولےہم گواہ ہیں کہ آپ سچے نبی ہیں ۱۱؎ حضور نے فرمایا پھر تمہیں میری پیروی سے کون چیز روکتی ہے ۱۲؎ وہ بولے کہ داؤد علیہ السلام نے رب سے دعا کی تھی کہ انکی اولادمیں نبوت رہے۱۳؎ ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم آپ کی پیروی کر لیں تو ہم کو یہودی مار ڈالیں گے۔(ابوداؤد،نسائی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع