30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ اس ڈاکوکو یعنی ظاہر ظہور مال لوٹ لے اور مالک دفع پرقادر نہ ہوں یا اپنے مال کو یعنی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے رہ جائیں کہ ہائے ہمارا مال چل دیا۔ڈکیتی میں تین جرم ہوئے:غیر کے مال پر ناجائز قبضہ ظاہرظہور دوسرے کا مال چھین لینا،دل کی سختی کہ لوگوں کی حسرت اور آہ و بکا پر ترس نہ کھائے۔لہذا یہ گناہوں کا مجموعہ ہوئی،مؤمن کی شان کے خلاف ہے۔
۳؎ غلول مال غنیمت میں خیانت کرنے کو کہتے ہیں۔کبھی مطلقًا خیانت پر بول دیا جاتا ہے یہاں دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔
|
54 -[6] وَفِي رِوَايَة ابْن عَبَّاس: «وَلَا يَقْتُلُ حِينَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ» . قَالَ عِكْرِمَةُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ يُنْزَعُ الْإِيمَانُ مِنْهُ؟ قَالَ: هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَإِنْ تَابَ عَادَ إِلَيْهِ هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: لَا يَكُونُ هَذَا مُؤْمِنًا تَامًّا وَلَا يَكُونُ لَهُ نُورُ الْإِيمَان. هَذَا لفظ البُخَارِيّ |
حضرت ابن عباس کی روایت میں یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوتا کہ قاتل قتل کرنے کی حالت میں مؤمن ہو ۱؎ حضرت عکرمہ ۲؎ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا کہ ان سے ایمان کیونکرنکل جاتا ہے آپ نے فرمایاایسے اور اپنی انگلیوں کوگتھی کر دیاپھر انگلیوں کو نکالا۳؎ کہ اگر توبہ کرے تو ایمان اس طرح لوٹ آتاہے۴؎ پھر انگلیاں گتھی کریں ابو عبداﷲ فرماتے ہیں۵؎ کہ یہ لوگ کامل مؤمن نہیں رہتے اور نہ اُن میں نور ایمانی رہتاہے۔یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔ |
۱؎ قتل سے مراد ظلمًا عمدًا قتل ہے۔لہذا حدیث واضح،ورنہ مجرم کو کبھی قتل کرنا عبادت ہے۔
۲؎ عکرمہ ابن(ابوجہل)نہیں ہیں،بلکہ عبداﷲ ابن عباد کے آزاد کردہ غلام آپ کے خادم اور کاتب ہیں۔(مرقاۃ)
۳؎ یعنی نور ایمانی مؤمن کے رگ و ریشہ میں ایسے سرایت کیا ہوتا ہے جیسے گتھی ہوئی انگلیاں مگر ان گناہوں کے وقت وہ نور اور ایمانی حیا بالکل نکل جاتے ہیں۔
۴؎ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ ہر گناہ کی توبہ علیحدہ ہے۔لہذا حقوق العبد کی توبہ میں حق کا ادا کردینا شرط ہے۔حسن بصری فرماتے ہیں کہ اس قسم کے مجرم اچھے القاب سے نہ پکارے جائیں"اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا اور اَوْلِیَآءَہٗ الْمُؤْمِنُوۡنَ "کے خطاب سے محروم ہیں۔ اب ان کے خطاب چور،زانی اور فاسق ہیں۔(مرقاۃ)
۵؎ یعنی محمد بن اسمعیل امام بخاری رحمۃ اﷲ علیہ۔
|
55 -[7] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( «آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ» . زَادَ مُسْلِمٌ: «وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَ زَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ» . ثُمَّ اتَّفَقَا: «إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤتمن خَان» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتےہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی تین علامتیں ہیں ۱؎ مسلم نے یہ زیادتی بھی بیان کی کہ اگر یہ روزہ رکھے،نماز پڑھے،اپنے کو مسلمان سمجھے۔پھرمسلم و بخاری متفق ہوگئے کہ جب بات کرے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف کرے،امانت دی جائے تو خیانت کرے۲؎ |
۱؎ منافق سے اعتقادی منافق مراد ہیں،یعنی دل کے کافر زبان کے مسلم،یہ عیوب ان کی علامتیں ہیں مگر علامت کے ساتھ علامت والا پایا جانا ضروری نہیں۔کوّے کی علامت سیاہی ہے مگر ہر کالی چیزکوّا نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع