30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۰؎ ہجرتیں بہت سی قسم کی ہیں:مکّہ سے حبشہ کی طرف،مکّہ سے مدینہ کی طرف،کفرستان سے دارالاسلام کی طرف،جہالت کی جگہ سے علم کے مقام کی طرف،علم سیکھنے کے لیے گناہوں سے نیکیوں کی طرف،کفر سے اسلام کی طرف۔(مرقاۃ)
۱۱؎ حرام،مکروہ تحریمی،مکروہ تنزیہی سب سے بچو کہ یہ اعلٰی ہجرت ہے۔خیال رہے کہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہ ہو خدا کو بھی پسند نہیں۔
۱۲؎ یعنی غازی میدان جہاد سے نہ جان سلامت لائے نہ مال،غنیمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جہاد میں جس قدر مشقت زیادہ اسی قدر ثواب زیادہ۔
۱۳؎ یعنی نفل کے لیے کون سا وقت بہتر ہے۔فرائض کے اوقات کا سوال نہیں ہے جیسا کہ جواب سے معلوم ہورہا ہے۔
۱۴؎ یعنی آخری تہائی رات کے تین حصے کرو اس کے درمیانی حصے میں تہجد پڑھو گویا رات کے چھٹے حصے میں اس ہی وقت سحری کھانا دعائیں مانگنا بلکہ استغفار کرنا افضل ہےکیونکہ اس وقت رحمت الٰہی دنیا کی طرف زیادہ متوجہ ہوتی ہے اور اس وقت جاگنا نفس پرشاق ہے ؎
پچھلی راتیں رحمت ربدی گھر گھر کرے آوازہ سونے والیو رب رب کرلو کھلا ہے دروازہ
|
47 -[46] وَعَن مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئا يُصَلِّي الْخَمْسَ وَيَصُومُ رَمَضَانَ غُفِرَ لَهُ قُلْتُ أَفَلَا أُبَشِّرُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ دَعْهُمْ يَعْمَلُوا» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو اﷲ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرتا ہو ۱؎ پانچوں نمازیں اور رمضان کے روزے ادا کرتا ہووہ بخشا جاوے گا۲؎ میں نے کہا کہ کیا میں لوگوں کو یہ بشارت نہ دے دوں فرمایا انہیں رہنے دو کہ عمل کرتے رہیں۳؎ |
۱؎ یعنی سارے عقائد اسلام کے رکھتا ہو نجات کے لیے صرف عقیدۂ توحید کافی نہیں ورنہ شیطان بھی موحّد ہے اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہو کہ ان جیسی نصوص میں شرک سے مراد کفر ہے۔
۲؎ اوّل ہی سے یا آخر کار چونکہ اس قت تک جہاد،زکوۃ،و حج فرض نہ ہوئے تھے۔یا ہر شخص ان کے قابل نہیں لہذا اُن کا ذکر نہیں ہوا،بخشش سے مراد گناہ صغیرہ کی بخشش ہے ورنہ گناہ کبیرہ بغیر توبہ اور حقوق العباد بغیر ادا معاف نہیں ہوتے"الَّا اَنْ یَّشَاءَ ربُّنا "۔
۳؎ یعنی عوام میں مجمل حدیث مت پھیلاؤ کہ وہ اس کا مطلب سمجھیں گے نہیں اور عمل میں کوشش چھوڑ دیں گے۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ ان احادیث کا بعد میں اشاعت فرمانا اس لئے تھا کہ علم دین چھپانے کا جرم نہ عائد ہوجائے،نیز ایسی حدیثیں مجتہدین کے ذریعہ عوام کے لیے مفید ہے۔
|
48 -[47] وَعَن معَاذ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ قَالَ: «أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ وَتُبْغِضَ لِلَّهِ وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ قَالَ وماذا يَا رَسُول الله قَالَ وَأَن تحب للنَّاس مَا تحب لنَفسك وَتَكْرَهُ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ |
انہیں سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کامل ایمان کے متعلق ۱؎ پوچھافرمایا یہ ہے کہ تم اﷲ کے لئے محبت و عداوت کرو اور اپنی زبان کو اﷲ کے ذکر میں مشغول رکھو ۲؎ عرض کیا اور کیا یارسول اﷲ؟ فرمایا کہ لوگوں کے لئے وہ ہی پسند کرو جو اپنے لئے چاہتے ہو اور ان کے لئے وہ ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو۔(احمد) |
۱؎ یعنی مؤمن کا کون سا حال اور کونسی خصلت بہتر ہے جیسا کہ جواب سے معلوم ہورہا ہے۔
۲؎ تاکہ ذکر کی برکت زبان تک پہنچے اور اس سے ایمان کی قوت حاصل ہو جو زبان ذکر اﷲ سے تر رہے گی۔وہ ان شاء اﷲ دوزخ کی آگ سے نہ جلے گی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع