30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ سبحان اﷲ!کیا نفیس مثال ہے،یعنی کلمہ طیبہ چابی کی ڈنڈی ہے اور ارکان اسلام روزہ نماز وغیرہ اس کے دندانےجیسے چابی میں دانتوں کی ضرورت ہے ایسے ہی مسلمان کے لئےٍ ارکان اربعہ ضروری ہیں۔
۴؎ یعنی بد عمل مسلمان اوّلًا جنت میں نہ جائے گا۔"اِلَّا اِن یَّشَاءَ اﷲُ "۔اس مسئلے کی تحقیق پہلے ہوچکی۔
|
44 -[43] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُكُمْ إِسْلَامَهُ فَكُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُكْتَبُ لَهُ بِعشر أَمْثَالهَا إِلَى سبع مائَة ضعف وكل سَيِّئَة يعملها تكْتب لَهُ بِمِثْلِهَا " |
روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے فرماتےہیں کہ فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی اپنا اسلام ٹھیک کرے ۱؎ تو جو نیکی بھی کرے گا وہ دس گناہ لکھی جاوے گی سات سو گناہ تک ۲؎ اور ہر برائی جو کر بیٹھے گا وہ ایک گناہ ہی لکھی جاوے گی ۳؎ یہاں تک کہ رب سے ملے۔(مسلم و بخاری) |
۱؎ اس طرح کہ تمام عقائد اسلامیہ کا دل سے اعتقاد رکھے،زبان سے اقرارکرے،رب فرماتا ہے:"مَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ "۔
۲؎ یعنی کم از کم دس گناہ،زیادہ سات سو گناہ،جیسا اخلاص اورموقع ویسا ثواب یہ قانون ہے،فضل کی حد نہیں۔اس حدیث میں دو آیتوں کی طرف اشارہ ہے کہ ایک"فَلَہٗ عَشْرُاَمْثَالِہَا"دوسری "مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمُ"الخ۔خیال رہے کہ یہ ان نیکیوں کا ذکر ہے جو عام کی جائیں ورنہ مدینہ طیبہ کی ایک نیکی کا ثواب پچاس ہزار اور مکہ مکرمہ کی ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ ہے،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
۳؎ یہ بھی عام گناہوں کا بیان ہے ورنہ مکہ معظمہ کا ایک گناہ ایک لاکھ ہے،ا یسے ہی موجد گناہ پر تمام گناہگاروں کا عذاب۔
|
45 -[44] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا الْإِيمَانُ قَالَ إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْإِثْمُ قَالَ إِذَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ» . رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہےحضرت ابوامامہ سے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کیا ہے ۱؎ فرمایا کہ جب تمہیں اپنی نیکی خوش کرے اور اپنی برائی غمگین کرے تو تم کامل مؤمن ہو ۲؎ عرض کیا کہ یارسول اﷲ گناہ کیا ہے۔فرمایا جو چیز تمہیں دل میں چبھے اسے چھوڑ دو۳؎ (احمد) |
۱؎ یعنی مؤمن ہونے کی پہچان جس سے میں سمجھ سکوں کہ اب میں مؤمن ہوگیا۔
۲؎ سبحان ﷲ! کیا نفیس پہچان ہے ۳ قسم کے لوگ ہیں:(۱)غافل(۲)عاقل(۳)کامل۔غافل:وہ گناہوں پر خوش اور نیکی پر مغموم ہو،جیسے کفار یا بعض فسّاق۔عاقل:وہ جو نیکی کو اچھا اور گناہ کو اپنی عقل سے برا سمجھے مگر عملًا بے پرواہ ہو۔کامل:وہ جس کے قلب کا رنگ بدل گیا ہو نیکی پر ایسا خوش ہو جیسے بادشاہت مل گئی گناہ پر ایسا غمگین ہو جیسے سب مال و اولادتباہ ہوگئے یہ درجہ بہت اعلٰی ہے۔اﷲ تعالٰی نصیب کرے۔
۳؎ یعنی مؤمن کا مل کا دل ہی گناہ و ثواب میں فرق کرلیتا ہے۔جیسے نفس انسانی مکھی ہضم نہیں کرتا قے کرلیتا ہے ایسے ہی نفس ایمانی گناہ برداشت نہیں کرتا۔یہ حدیث ان لوگوں کے لیے ہے جوان صحابی جیسے کامل مؤمن ہوں ہم جیسے گنہگاروں کے لیے نہیں،ہم تو بہت دفعہ برائیوں کو نیکیاں سمجھ لیتے ہیں۔
|
46 -[45] عَن عَمْرو بن عبسة قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُول الله من تبعك عَلَى هَذَا الْأَمْرِ قَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ قُلْتُ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ طِيبُ الْكَلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ قُلْتُ مَا الْإِيمَانُ قَالَ الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ قَالَ خُلُقٌ حَسَنٌ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ قَالَ قُلْتُ أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ تَهْجُرَ مَا كره رَبك عز وَجل قَالَ قلت فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ قَالَ قُلْتُ أَيُّ السَّاعَاتِ أَفْضَلُ قَالَ جَوف اللَّيْل الآخر... رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت عمرو ابن عبسہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ حضور اسلام میں آپ کے ساتھ کون کون ہے فرمایا ایک غلام ایک آزاد ۲؎ میں نے عرض کیا اسلام کیا ہے ۳؎ فرمایا اچھی بات کرنا کھانا کھلانا ۴؎ میں نے پوچھا ایمان کیا ہے ۵؎ فرمایا صبر اور سخاوت ۶؎ فرماتے ہیں میں نے پوچھا کون سااسلام بہتر ہے فرمایا جس کی زبان و ہاتھ سے مسلمان سلامت رہیں فرماتے ہیں میں نے پوچھا کونسا ایمان افضل ہے فرمایا اچھے عادات ۷؎ فرماتے ہیں پوچھا نماز کونسی افضل ہے ۸؎ فرمایا لمبا قیام ۹؎ فرماتے ہیں میں نے پوچھا ہجرۃ کونسی بہتر ہے ۱۰؎ فرمایا یہ کہ جو رب کو ناپسند ہو اسے چھوڑ دو ۱۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کہ جہاد کونسا بہتر ہے فرمایا جس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جاویں اور اس کا خون بہادیا جاوے ۱۲؎ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا گھڑی کون سی بہتر ہے۱۳؎ فرمایا آخری رات کا درمیانی حصہ۱۴؎ (احمد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع