30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱)حضرت ابوہریرہ کو باغ کا دروازہ نظر کیوں نہ آیا نالی کیوں نظر آئی(۲)آپ دوسرے کے باغ یا مکان میں بلا اجازت کیوں گئے(۳) آپ نے پہلے سلام کیوں نہ کیا(۴)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نعلین شریف کیوں عطا فرمائیں(۵)حضرت عمر نے اشاعت حدیث سےجناب ابوہریرہ کو کیوں روکا(۶)انہیں مارا کیوں(۷)حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کیوں کرائی(۸)حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فرمان کے اشاعت نہ کرنے کی رائے کیوں دی(۹)حضور نے ان کی رائے قبول کیوں کرلی(۱۰)حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس مار کا بدلہ کیوں نہ لیا گیا۔
|
40 -[39] عَن مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَه إِلَّا الله».رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی چابیاں ۱؎ کلمہ شہادت ہے کہ رب کے سوا کوئی معبود نہیں۔اسے احمد نے روایت کیا۔ |
۱؎ یعنی بغیر درستیٔ عقیدہ کوئی شخص جنت میں نہیں جاسکتا اور درستیٔ عقائد خود جنت اوروہاں کے تمام مقامات کی چابی ہے اس لئے مفاتیح جمع فرمایا گیایعنی وہاں کے ہر مقام کی چابی کلمہ طیّبہ ہے،ہم پہلے عرض کرچکے کہ کلمہ سے مراد سارے عقائد اسلامیہ ہیں،لہذا منافقین اور مرتدین اگرچہ عمر بھر کلمہ پڑھیں مگر جنتی نہیں۔
|
41 -[40] عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَزِنُوا عَلَيْهِ حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يُوَسْوِسُ قَالَ عُثْمَان وَكنت مِنْهُم فَبينا أَنا جَالس فِي ظلّ أَطَم من الْآطَام مر عَليّ عمر رَضِي الله عَنهُ فَسلم عَليّ فَلم أشعر أَنه مر وَلَا سلم فَانْطَلق عمر حَتَّى دخل على أبي بكر رَضِي الله عَنهُ فَقَالَ لَهُ مَا يُعْجِبك أَنِّي مَرَرْت على عُثْمَان فَسلمت عَلَيْهِ فَلم يرد عَليّ السَّلَام وَأَقْبل هُوَ وَأَبُو بكر فِي وِلَايَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى سلما عَليّ جَمِيعًا ثمَّ قَالَ أَبُو بكر جَاءَنِي أَخُوك عمر فَذكر أَنه مر عَلَيْك فَسلم فَلم ترد عَلَيْهِ السَّلَام فَمَا الَّذِي حملك على ذَلِك قَالَ قُلْتُ مَا فَعَلْتُ فَقَالَ عُمَرُ بَلَى وَاللَّهِ لقد فعلت وَلكنهَا عبيتكم يَا بني أُميَّة قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّكَ مَرَرْتَ وَلَا سَلَّمْتَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ صَدَقَ عُثْمَانُ وَقد شَغَلَكَ عَنْ ذَلِكَ أَمْرٌ فَقُلْتُ أَجْلَ قَالَ مَا هُوَ فَقَالَ عُثْمَان رَضِي الله عَنهُ توفى الله عز وَجل نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ نَجَاةِ هَذَا الْأَمْرِ قَالَ أَبُو بكر قد سَأَلته عَن ذَلِك قَالَ فَقُمْت إِلَيْهِ فَقلت لَهُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَنْتَ أَحَقُّ بِهَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَبِلَ مِنِّي الْكَلِمَةَ الَّتِي عَرَضْتُ عَلَى عَمِّي فَرَدَّهَا فَهِيَ لَهُ نجاة. رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو حضور کے صحابہ میں سے بعض حضرات اس قدر غمگین ہوئے کہ بیماری وہم میں مبتلا ہونے کے قریب ہوگئے ۱؎ حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ میں بھی ان میں تھا ایک میں بیٹھا تھا کہ عمر فاروق گزرے مجھے سلام کہا لیکن مجھے مطلقًا شعو ربھی نہ ہوا ۲؎ جناب عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر سے میری شکایت کی۳؎ پھر وہ دونوں حضرات میرے پاس تشریف لائے اور دونوں نے مجھے سلام کیا۴؎ ابوبکر نے مجھ سے فرمایا کہ کیا باعث ہوا کہ تم نے اپنے بھائی عمر کے سلام کا جواب نہ دیا میں نے کہا میں نے تو ایسا نہ کیا عمر بولے ۵؎ خدا کی قسم تم نے یہ کیا میں نے کہا خدا کی قسم مجھے نہ یہ خبر کہ تم گزرے نہ یہ کہ تم نے مجھے سلام کیا ۔ابوبکر صدیق نے فرمایا عثمان سچے ہیں اے عثمان تمہیں کسی الجھن نے پھنسالیا ۶؎ اس سے بے خبر کردیا میں نے کہا ہاں فرمایا وہ الجھن کیا ہے میں نے کہا کہ اﷲ نے اس سے پہلے ہی اپنے نبی کو وفات دے دی کہ ہم حضور سے اس چیز کی نجات کے متعلق پوچھیں ۷؎ ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ میں نے اس کے متعلق حضور سے پوچھ لیا ہے ۸؎ میں آپ کی خدمت میں کھڑا ہوگیا ۹؎ اور کہا اے ابوبکر تم پر میرے ماں باپ فدا یہ تمہارا ہی حق ہے ۱۰؎ ابوبکر نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ اس چیز کی نجات کیسے ہوگی ۱۱؎ حضور نے فرمایا جو میری وہ بات مان لے جو میں نے اپنے چچا پر پیش کی تھی ۱۲؎ انہوں نے رَد کردی تھی۱۳؎ تو یہ بات اس کی نجات ہے۔(احمد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع