30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۸؎ خیال رہے کہ اس فرمان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت نہیں،مقصد یہ ہے کہ اے ابوہریرہ!تم تعمیل کرچکے ہو،میں تمہیں مل گیا تم نے مجھے فرمان سنا دیا۔حدیث اپنے انتہا کو پہنچ گئی،اس کی عام اشاعت کی ضرورت نہیں۔خیال رہے کہ حدیث کا مبداء نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور حدیث کا منتہی مجتہدہیں۔عوام براہ راست حدیث رسول پر عمل نہ کریں بلکہ مجتہد سے سمجھ کر عمل کریں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسْتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ"حدیث و قرآن طب روحانی کی دوائیں ہیں۔کسی طبیب روحانی کے مشورہ سے استعمال کرو ورنہ مارے جاؤ گے۔یہ حدیث تقلید آئمہ کی قوی دلیل ہے۔
۱۹؎ یعنی میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی پناہ لی جیسے بچہ مادر مہربان کی۔خیال رہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہاں آکر روئے وہاں نہ روئے تھے کیونکہ مظلوم فریا درس کو دیکھ کر رویا کرتا ہے۔
۲۰؎ یہ عرب کا محاورہ ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں پر قرض سوار ہوگیایعنی غالب آگیا۔
۲۱؎ یعنی اس کام کے لیے یہاں سے آگے نہ بڑھو خواہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس چلو یا اور کام کیلئے جاؤ۔
۲۲؎ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو واپس کرنے پر نہ کہ انہیں مارنے پر،جیسا کہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔اس فرمان سےمعلوم ہوتا ہے کہ شکایات وغیرہ میں اکثر ایک کی خبر معتبر ہےکیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوہریرہ سے گواہی مانگی اور نہ جناب عمر سے اقرار کرایا صرف لوٹا نے کی وجہ پوچھی۔
۲۳؎ یہ عرض معروض بارگاہ نبوی کے آداب میں سے ہے نہ کہ حضرت ابوہریرہ پر بدگمانی کی بنا پر کیونکہ سارے صحابہ عادل ہیں،ان کی خبریں معتبر،جب شاہی کارندے کے کسی کام پر بادشاہ سے عرض معروض کرنا ہو تو پہلے بادشاہ سے تصدیق کرلینی ادب دربار ہے۔
۲۴؎ خیال رہے کہ اس جگہ ایک چیز کا ذکر نہیں آیا یعنی اس باغ کے پیچھے معلوم ہوتا ہے کہ جناب عمر راز دار پیغمبر ہیں دلی رازوں سے خبردار ہیں۔
۲۵؎ یعنی آیندہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو عام لوگوں سے یہ کلام کرنے کی اجازت نہ دیں اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک مشورہ کی پیش کش ہے نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سرتابی۔رب فرماتا ہے "وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ"اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر عتاب نہ کیا بلکہ آپ کا مشورہ قبول کرلیا۔اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جناب عمر کی عقل و دانائی حضور سے زیادہ ہے۔اس حدیث کا راز کچھ اور ہی ہے جو ہم پہلے عرض کرچکے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم اپنے موقع پر پہنچ چکا،تعمیل ارشاد ہوچکی۔
۲۶؎ یعنی وہ نو مسلم لوگ جو ابھی تک منشاء کلام سمجھنے کے لائق نہیں ہیں وہ ظاہر الفاظ سُن کر اعمال ہی چھوڑ بیٹھیں گے اور سمجھیں گے کہ نجات کے لئے صرف کلمہ پڑھ لینا کافی ہے،اس لئے موجودہ زمانے کے اہل حدیث حضرات کو عبرت پکڑنی چاہئیے جو ہر حدیث پر بلا سوچے سمجھے عمل کرنے کے مدعی ہیں۔آیات قرآنیہ پر بھی اندھا دھند گرنا حرام ہے،رب فرماتاہے:"وَالَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡابِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوۡاعَلَیۡہَاصُمًّا وَّعُمْیَانًا"۔
۲۷؎ یعنی تمہاری رائے منظور ہے،بہت درست ہے۔خیال رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے جناب حضرت ابوہریرہ کا نہ قصاص دلوایا نہ ان سے معافی دلوائی۔کیونکہ حضرت عمر مجتہدہیں۔اور ا بوہریرہ رضی اللہ عنہ محض محدّث،مجتہد استاد ہیں،محدث شاگرد،استاد پر شاگرد کا قصاص لازم نہیں اگرچہ غلطی سے سزادیدے۔دیکھو موسیٰ علیہ السلام نے خطاءً ہارون علیہ السلام کے بال پکڑ کر کھینچے مگر رب نے ان سے قصاص نہ دلوایا (قرآن حکیم) ہماری اس شرح سے حسب ذیل سوالات اٹھ گئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع