30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
36 -[35] عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَ الله عَلَيْهِ النَّار» |
روایت ہے عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جو گواہی دے کہ اﷲ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور یقینًا محمد اﷲ کے رسول ہیں اﷲ تعالٰی اس پر آگ حرام کرے گا ۱؎ |
۱؎ اس کی شرح پہلے گزر چکی کہ اس سے مراد تمامی اسلامی عقائد قبول کرلینا ہے اور مطلب یہ ہے کہ جس کے عقائد درست ہیں وہ دوزخ میں ہمیشہ نہ رہے گا،یا اس سے وہ شخص مراد ہے جو ایمان لاتے ہی فوت ہوجائے،یا یہ حدیث اس وقت کی ہے جب احکام شرعیہ بالکل نہ آئے تھے۔بہرحال یہ حدیث دیگر احادیث کے خلاف نہیں۔
|
37 -[36] وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہےحضرت عثمان رضی اﷲ عنہ ۱؎ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے جو یہ جانتے مانتے مر گیا کہ اﷲ کے سواء کوئی لائق عبادت نہیں وہ جنت میں داخل ہوگا ۲؎ (مسلم) |
۱؎ آپ کانام عثمان ابن عفّان ابن ابی العاص ابن امیہ ہے،کنیت ابو عبداﷲ،لقب جامع القرآن،اموی ہیں،قرشی ہیں۔عبدمناف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جاتے ہیں۔حضرت ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر شروع اسلام میں ہی ایمان لائے،صاحب ہجرتیں ہیں،پہلی ہجرت حبشہ کی طرف اور دوسری مدینہ پاک کی طرف،آپ کا خطاب ذی النورین ہے کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں رقیہ اور ام کلثوم آگے پیچھے آپ کے نکاح میں آئیں۔اولاد آدم میں کسی کے نکاح میں نبی کی دو بیٹیاں نہیں آئیں،جنگ بدر میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اپنی بی بی رقیہ کی خدمت کے لیے مدینہ میں رہے،آپ کو غنیمت کا حصہ دیا گیا،صلح حدیبیہ میں آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے مکہ معظمہ گئے تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ کو فرمایا یہ عثمان کا ہاتھ ہے خود ان کی طرف سے بیعت کی اور یکم محرم ۲۴ھ میں تخت خلافت پر جلوہ گر ہوئے،۱۲ سال خلافت کی بیاسی۸۲ سال کی عمر پا کر اسود تجیبی مِصری کے ہاتھ سے مدینہ منورہ میں قرآن پڑھتے ہوئے شہید ہوئے،جنت البقیع میں آپ کی قبر انور زیارت گاہ مخلوق ہے،فقیر نے وہاں حاضری دی ہے۔
۲؎ یعنی اگرچہ اس زبان سے اقرار کا بھی موقعہ نہ ملا کیونکہ زبانی اقرار تو احکام شرعیہ جاری کرنے کی شرط ہے۔
|
38 -[37] وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثِنْتَانِ مُوجِبَتَانِ قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُوجِبَتَانِ؟ قَالَ: (مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئا دخل الْجنَّة) (رَوَاهُ مُسلم) |
روایت ہے حضرت جابر سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چیزیں لازم کرنے والی ہیں ۲؎ کسی نے عرض کیا یارسول اﷲ لازم کرنے والی کیا ہیں فرمایا جو اﷲ کا شریک مانتا ہوا مرگیا ۳؎ وہ آگ میں جائے گا ۴؎ اور جو اس طرح مرا کہ کسی کو اﷲ کا شریک نہیں مانتا تھا۵؎ وہ جنت میں جائے گا ۶؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع