30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
33 -[32] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں۔فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچا مسلمان وہ جس کے زبان و ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ۱؎ اور سچا مؤمن وہ جس سے لو گ اپنے خون و مال میں مطمئن رہیں ۲؎ اسے ترمذی و نسائی نے روایت کیا ہے |
۱؎ کہ نہ کسی کو بلاوجہ مارے پیٹے نہ ان کی چغلی اور غیبت کرے حق پر مارنا عین دین ہے،جیسے مجرم سے قصاص لینا۔ضرورت شرعی کی بناء پر غیبت عین عبادت ہے جیسے راویان حدیث کے عیوب بیان کرنا حدیث کی تحقیق کیلیے،یہ چیزیں اس حدیث سے خارج ہیں۔
۲؎ یعنی اس کا برتاؤ ایسا اچھا ہو کہ لوگوں کو قدرتی طور پر اس کی طرف سے اطمینان ہو کہ یہ نہ ہمارے مال مارے گا،نہ تکلیف دے گا،یہ اطمینان مسلمین اﷲ کی بڑی نعمت ہے اسی لئے بزرگ فرماتے ہیں کہ کسی کی قوت ایمانی جانچنے کے لئے اس کے پڑوسیوں اور دوستوں سے پوچھو۔اس حدیث سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ اسلام اور ایمان میں فرق ہے اسلام کا تعلق ظاہر اعضاء سے ہے اور ایمان کا قلب سے۔
|
34 -[33] وَزَادَ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» . بِرِوَايَةِ فَضَالَةَ: «وَ الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَنَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَالْمُهَاجِرمن هجرالْخَطَايَا والذنُوب» |
بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت فضالہ کی روایت ۱؎ سے یہ زیادتی کی کہ غازی وہ جو اﷲ کی فرمانبرداری میں اپنے نفس سے مشقت لے ۲؎اور سچا مہاجر وہ جو خطا و گناہ چھوڑ دے۳؎ |
۱؎ فضالہ ابن عبید اوسی انصاری ہیں،یہ حضور کے غلام ہیں،احد اور اس کے بعد تمام غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،بیعت رضوان میں شریک تھے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد شام کے جہادوں میں شریک رہے،دمشق میں قیام کیا،امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں وہاں کے قاضی رہے، ۵۳ ھ میں وہیں وفات پائی(از مرقاۃ و اشعہ)
۲؎ کیونکہ ہمارا بدترین دشمن اور مارآستین ہمارا نفس ہے،کفار کو مارنا آسان نفس ناہنجار کو مارنا مشکل،مولانا فرماتے ہیں
سہل شیر ے وانکہ صفہا بشکند شیرآں باشد کہ خودر بشکند
۳؎ کیونکہ وطن جسم کا دیس ہے اور گناہ نفس امّارہ کا دیس وطن عمر میں ایک بار چھوڑنا پڑتا ہے اور یہ ہر لحظہ،یہاں خطا سے مراد چھوٹے گناہ ہیں اور ذنوب سے مراد بڑے۔
|
35 -[34] وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ: «لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ |
روایت ہے حضرت انس سے کہ یہ بہت کم تھا کہ حضور ہمیں اس کے بغیروعظ فرمائیں کہ جو امین نہیں اس کا ایمان نہیں جو پابند وعدہ نہیں اس کا دین نہیں ۱؎یہ حدیث بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی۔ |
۱؎ یعنی امانت داری اور پابندی وعدہ کے بغیر ایمان اور دین کامل نہیں،امانت میں مال،زر،لوگوں کی عزت وآبروریزی حتی کہ عورت کی اپنی عفّت سب داخل ہیں،بلکہ سارے اعمال صالحہ بھی اﷲ کی امانتیں ہیں۔حضور سے عشق و محبّت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت ہے،رب فرماتا ہے۔"اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ "الخ۔عہد میں میثاق کے دن رب سے عہد،بیعت کے وقت شیخ سے عہد،نکاح کے وقت خاوند یا بیوی سے عہد،جو جائزوعدہ دوست سے کیا جائے یہ سب داخل ہیں۔ان سب کا پورا کرنا لازم و ناجائز و عدہ توڑنا ضروری اگر کسی سے زنا،چوری،حرام خوری یا کفر کا وعدہ کیا تو اسے ہرگز پورا نہ کرے کہ یہ رب کے عہد کے مقابلے میں ہے۔اﷲ اور رسول سے وعدہ کیا ہے ان سے بچنے کا اسے پورا کرے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع