30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎معلوم ہوا کہ ایمان اور نیک اعمال معافی گناہ کا ذریعہ ہیں،رب فرماتاہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"مگر ان سے گناہ مٹتے ہیں نہ کہ حقوق العباد۔نو مسلم اسلام لاکر زمانۂ کفر کے قر ض بھی ادا کرے گا اور حدود و قصاص بھی،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔یعنی یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ زمانۂ کفر میں ظلمًا قتل کرلو،لوگوں کے مال مارلو اور بعد میں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجاؤ سب معاف،یہ ناممکن ہے۔
۶؎ یعنی یہ دو حدیثیں مصابیح میں اسی باب میں تھیں مگر ہم پہلی حدیث "باب الریاء"میں اور دوسری"باب الکبر"میں لائیں گے کیونکہ یہ وہاں کے ہی مناسب ہیں۔یہ فقیر ان شاءاﷲ ان حدیثوں کی شرح بھی وہیں عرض کرے گا۔
|
29 -[28] عَن معَاذ بن جبل قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سفر فَأَصْبَحت يَوْمًا قَرِيبا مِنْهُ وَنحن نسير فَقلت يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدنِي عَن النَّار قَالَ لقد سَأَلتنِي عَن عَظِيمٍ وَإِنَّهُ لِيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْت ثُمَّ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةُ كَمَا يُطْفِئُ المَاء النَّار وَصَلَاة الرجل من جَوف اللَّيْل قَالَ ثمَّ تَلا (تَتَجَافَى جنُوبهم عَن الْمضَاجِع)حَتَّى بَلَغَ (يَعْمَلُونَ) ثُمَّ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ بِرَأْس الْأَمر كُله وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ قُلْتُ بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ فَقَالَ كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نتكلم بِهِ فَقَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه |
روایت ہے حضرت معاذ(ابن جبل)سے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ۱؎ یارسول اﷲ مجھے ایسا کام بتائیے جو مجھے جنت میں داخل اور دوزخ سے دور کردے ۲؎ فرمایا تم نے بڑی چیز پوچھی۳؎ ہاں جس پر اﷲ آسان کرے اُسے آسان ہے ۴؎ اﷲ کو پوجو ۵؎ اورکسی چیز کو اس کا شریک نہ جانو نماز قائم کرو،زکوۃ دو،رمضان کے روزے رکھو،کعبہ کا حج کرو ۶؎ پھر فرمایا کیا میں تم کو بھلائی کے دروازے نہ بتادوں ۷؎ روزہ ڈھال ہے ۸؎ خیرات گناہوں کو ایسا بجھاتی ہے جیسے پانی آگ کو ۹؎ اور درمیانی رات میں انسان کا نماز پڑھنا ۱۰؎ پھر یہ تلاوت کی کہ ان کی کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں۱۱؎ (یعلمون تک)پھر فرمایا کہ میں تمہیں ساری چیزوں کا سر،ستون،کوہان کی بلندی نہ بتادوں ۱۲؎ میں نے کہا ہاں یارسول اﷲ۱۳؎ فرمایا تمام چیزوں کا سراسلام ہے اور اس کا ستون ۱۴؎ نماز اور کوہان کی بلندی جہاد ہے ۱۵؎ پھر فرمایا کہ کیا تمہیں ان سب کے اصل کی خبر نہ دے دوں ۱۶؎ میں نے عرض کیا ہاں یا نبی اﷲ پس حضور نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر فرمایا کہ اسے روکو ۱۷؎)میں نے عرض کیا کہ یا نبی اﷲ کیا زبانی گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہوگی ۱۸؎ فرمایا تمہیں تمہاری ماں روئے اے معاذ ۱۹؎لوگوں کو اوندھے منہ آگ میں نہیں گراتی مگر زبانوں کی کٹوتی ۲۰؎ یہ حدیث احمد ترمذی ابن ماجہ نے روایت کی۔ |
۱؎ غزوۂ تبوک میں دوپہر کے وقت جب سخت گرمی تھی،جب تمام صحابہ الگ الگ درختوں کے نیچے ٹھہرے اور میں نے حضور کے ساتھ آرام کیا۔(مرقاۃ)
۲؎ یہ اسناد مجازی ہے جنت،دنیا،دوزخ سے بچانا رب کا کام ہے۔چونکہ عمل اس کا ذریعہ ہے اس لیے اسے فاعل قرار دیا گیا لہذا یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضور جنت دیتے ہیں،دوزخ سے بچاتے ہیں،ہمارے اعمال سے حضور کا توسل زیادہ قوی ذریعہ ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع