30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۸؎ تاکہ حدیث کے الفاظ پورے منقول ہوں یا بتقاضائے عشق کہ محبوب کاعتابانہ خطاب بھی عاشق کو پیارا معلوم ہوتا ہے۔بار باراسے یاد کرکے نیا لطف حاصل کرتا ہے۔خیال رہے کہ فاسق مؤمن آخر کار جنتی ہے،بے دین اور بدمذہب پر جنت حرام ہے،اس کے لیے دوزخ میں ہمیشگی ہے۔
|
27 -[26] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَابْنُ أَمَتِهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَالْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَقٌّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ من الْعَمَل» |
روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوگواہی دے کہ اکیلے خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اور محمداﷲ کے بندے اور رسول ہیں ۱؎ عیسٰے اﷲ کے بندے اور رسول اوراس کی بندی کے بیٹے ۲؎ اﷲ کا کلمہ ہیں جو مریم میں ڈالا ۳؎ اور اﷲکی طرف سے روح ہیں۴؎ اور جنت و دوزخ حق ہے اﷲ اُسے جنت میں داخل کرے گا مطابق عمل کے ۵؎ |
۱؎ بندۂ اعلٰی اور رسول اکمل جن کی عبدیت سے اﷲ کی ربوبیت چمکی اور جن کی رسالت رب کی الوہیت کا مظہر اتم ہے۔لہذا ان کی بندگی اور دوسروں کی بندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اور بندوں کو اس پر ناز ہے کہ ہمارا رب اﷲ ہے۔دستِ قدرت کو اس پر ناز ہے کہ میرے بندے محمدرسول اﷲہیں،فرماتا ہے:"ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرْسَلَ رَسُوۡلَہٗ"اور بندہ رب کو راضی کرنا چاہیں۔رب جناب مصطفےٰ کو راضی کرنا چاہے فرماتا ہے:"وَلَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی"اور بندے کشتیٔ اسلام میں پار لگنے کو سوار ہوئے،جناب مصطفےٰپار لگانے کو،جیسے جہاز کے مسافر اور کپتان کہ جہاز مسافروں کو پار لگاتا ہے اور کپتان جہاز کو،اسی لئے مسافر کرایہ دے کر جہاز میں بیٹھتے ہیں اور کپتان تنخواہ لے کر۔سواری ایک ہے مگر سواروں کی نوعیت میں فرق ہے،لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز،کلمہ پڑھنے،حج و تلاوت قرآن کرنے سے یہ نہ سمجھو کہ حضور ہماری طرح مؤمن ہیں۔ان اعمال سے ہماری عزت ہےاور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کرنے کی وجہ سے ان اعمال کی عزت افزائی،ہمیں فخر ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں،نماز کو فخرہے کہ حضور نے مجھے پڑھا۔
۲؎ یہ فرمان نہایت جامع ہے۔عیسائی جناب مسیح کو خدا کا بیٹا،اور بی بی مریم کو رب کی بیوی کہتے تھے۔یہودی جناب مسیح کی نبوت کے بھی انکاری تھے اور پاک بتول مریم کو تہمت لگاتے تھے۔اس ایک کلمہ میں دونوں کی نفیس تردید ہوگئی۔زمانہ موجودہ کے قادیانی آپ کو یوسف نجار کا بیٹا کہتے ہیں۔اور حضرت مریم کا نکاح ان سے ثابت کرتے ہیں۔اس میں ان کی بھی اعلٰی تردید ہے کہ اگر جناب مسیح باپ کے بیٹے ہوتے تو اسی طرف آپ کی نسبت ہوتی،قرآن نے بھی انہیں عیسیٰ بن مریم فرمایا حالانکہ فرماتا ہے:"اُدْعُوۡہُمْ لِاٰبَآئِہِمْ "۔
۳؎ اس طرح کہ حضرت جبرئیل نے باذن الٰہی کُن کہہ کر حضرت مریم کے سینہ پر پھونکا جس سے آپ حاملہ ہوگئیں۔خیال رہے کہ جناب مسیح کا لقب کلمۃاﷲ ہے یا اس لیے کہ آپ کی پیدائش کلمہ کن سے ہےرب فرماتا ہے:"اِنَّ مَثَلَ عِیۡسٰی عِنۡدَ اللہِ"الخ،آدم علیہ السلام کو کلمۃ اﷲ اس لیے نہیں کہتے کہ ان کے جسم کی پیدائش مٹی سے ہے۔صرف روح پھونکنا کلمۂ کن سے رب فرماتا ہے:فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَ نَفَخْتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ مگر جناب مسیح کا جسم اور روح سب کُن سے نطفہ علقہ مضغہ کچھ نہیں۔(ازمرقاۃ)یا اس لیے کہ جناب مسیح ازسر تاپا اﷲ کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع