30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ اگر پاک اور نرم ہوں۔خیال رہے کہ جوتے میں نماز اورجوتے پرنماز پڑھنے میں فرق ہے،اگر تلے گندگی ہو اور اسے اتارکر اس کے اوپرکھڑے ہوکرنماز پڑھ لے توجائز ہے کہ اب جوتا لباس نہیں بلکہ نماز کی جگہ ہے جس کے اوپرنجاست نہ ہونا کافی ہے جیسے لکڑی کا موٹا تختہ جس کی نچلی سطح ناپاک ہو۔
|
768 -[15] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ يَسْجُدُ عَلَيْهِ. قَالَ: وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا تو آپ کو چٹائی پرنماز پڑھتے دیکھا کہ اسی پر سجدہ کرتے تھے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا۲؎ (مسلم) |
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگرزمین اورنمازی کے درمیان کوئی چیزحائل ہوتونمازدرست ہے۔فقہاءفرماتے ہیں کہ چٹائی اورجوچیززمین سے اُگی ہو اس پرنمازافضل ہے کیونکہ اس میں اظہارعجز ہے اور امام مالک کی مخالفت سے بچنا کہ ان کے ہاں جنس زمین کے سواکسی چیز پر سجدہ مکروہ ہے۔
۲؎ یا بیان جواز کے لئے یا اس وقت دوسرا کپڑا تھا نہیں،ورنہ سنت یہ ہے کہ تین کپڑوں میں نماز پڑھے،کرتا،پائجامہ۔عمامہ لپیٹنے کی صورت یہ ہے کہ چادر کا داہنا کنارہ بائیں کندھے پرہو اور بایاں دائیں پر۔
|
769 -[16] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حافيا ومتنعلا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو ننگے پاؤں اور نعلین پہنے نماز پڑھتے دیکھا ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یعنی کبھی ایسے،یہ دونوں کام ایک ہی نماز میں نہ ہوتے تھے۔
|
770 -[17] وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: صَلَّى جَابِرٌ فِي إِزَارٍ قَدْ عَقَدَهُ مِنْ قِبَلِ قَفَاهُ وثيابه مَوْضُوعَة على المشجب قَالَ لَهُ قَائِلٌ تُصَلِّي فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ فَقَالَ إِنَّمَا صَنَعْتُ ذَلِكَ لِيَرَانِيَ أَحْمَقُ مِثْلُكَ وَأَيُّنَا كَانَ لَهُ ثَوْبَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت محمدابن منکدرسے فرماتے ہیں کہ حضرت جابر نے صرف تہبند(چادر)میں نماز پڑھی جسے گدی کی طرف باندھا تھا ۱؎ حالانکہ انکے کپڑے کھونٹی پر رکھے تھے کسی نے ان سے عرض کیا کہ کیا آپ ایک ہی چادر میں نماز پڑھتے ہیں۲؎ تو فرمایا میں نے اس لئے کیا تاکہ مجھے تم جیسے بیوقوف دیکھیں۳؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سے کس کے پاس دو کپڑے تھے۴؎ (بخاری) |
۱؎ یعنی سر سے پاؤں تک ایک چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔سروکندھا وغیرہ کچھ کھلا نہ تھا۔لہذا آج کل کے فیشن پرست اس حدیث سے ننگے سر یا ننگے کندھے نماز پر دلیل نہیں پکڑ سکتے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع