دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

766 -[13]

وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ إِذْ خلع نَعْلَيْه فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ: «مَا حَمَلَكُمْ على إلقائكم نعالكم؟» قَالُوا: رَأَيْنَاك ألقيت نعليك فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فيهمَا قذرا إِذا جَاءَ أحدكُم إِلَى الْمَسْجِدَ فَلْيَنْظُرْ فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا أَو أَذَى فَلْيَمْسَحْهُ وَلِيُصَلِّ فِيهِمَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ  وسلم اپنے صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ نے جوتے اتار دیئے اور اپنے بائیں طرف رکھ لئے ۱؎  جب قوم نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے۲؎ جب حضور انورصلی اللہ علیہ  وسلم نے نماز پوری کی تو فرمایا کہ تمہیں جوتے اتار ڈالنے پرکس نے آمادہ کیا عرض کیا کہ ہم نے آپ کو جوتے اتارتے دیکھا ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے حضور انورصلی اللہ علیہ  وسلم نے فرمایا کہ حضرت جبریل میرے پاس آئے مجھے بتایا کہ ان میں گندگی ہے۳؎  جب تم میں سے کوئی مسجد میں آیا کرے تو دیکھ لیا کرے اگر جوتوں میں گندگی دیکھے تو انہیں پونچھ دے اور ان میں نماز پڑھ لے۴؎ (ابوداؤد،دارمی)

۱؎   یہ سب کچھ تھوڑی سی حرکت سےہوا ورنہ عمل کثیر نماز کو فاسد کردیتا ہے۔

۲؎   اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور کی پیروی بہرحال کی جائے وجہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔دیکھو صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ  وسلم کو نعلین اتارتے دیکھا تو بغیر وجہ کی تحقیق کئے جوتے اتار دیئے اورسرکارنے اس اتباع پر اعتراض نہ فرمایا۔ دوسرے یہ کہ صحابہ کرام نماز میں بجائے سجدہ گاہ کے اپنے ایمان گاہ یعنی حضور انورصلی اللہ علیہ  وسلم کو دیکھا کرتے تھے ورنہ انہیں آپ کے اس فعل شریف کی خبر کیسے ہوتی،جیسے مسجدحرم شریف کا نمازی نماز میں کعبہ کو دیکھے ایسے ہی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پیچھے نماز پڑھنے والا نماز میں حضور انور صلی اللہ علیہ  وسلم کو دیکھے۔

۳؎  تھوک،رینٹ وغیرہ گھن کی چیز نہ کہ پلیدی اورنجاست،ورنہ نماز کا لوٹانا واجب ہوتا کیونکہ اگر گندے کپڑے،گندے جوتے میں نماز شروع کردی جائے پھر پتہ لگے تو نماز دوبارہ پڑھنی پڑتی ہے۔واقعہ یہ تھا کہ حضور انورصلی اللہ علیہ  وسلم نے خیال فرمایا یہ چیزیں پاک ہیں ان کے ساتھ نماز پڑھنے میں مضائقہ نہیں رب نے جبریل امین کو بھیجا کہ پیارے تمہاری شان کے یہ بھی خلاف ہے تمہارے لباس پاک بھی چاہئیں،ستھرے بھی،لہذا حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ حضور نے نماز لوٹائی کیوں نہیں اور نہ یہ اعتراض کہ حضور کو اپنے نعلین کی بھی خبر نہیں اوروں کی کیا خبر ہوگی،جوشہنشاہ زمین پر کھڑے ہوکر اندرون زمین کا عذاب دیکھ لے اور عذاب قبر کی وجہ جان لے اور جو یہ فرمائے کہ نمازصحیح پڑھا کرو،مجھ پر تمہارے رکوع،سجدے،دل کا خشوع خضوع پوشیدہ نہیں،اس پر اپنے نعلین کا حال کیسے چھپے گا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رب تعالٰی اپنے حبیب کی ہرادا کی نگرانی فرماتا ہے کیوں نہ ہوخودفرماتا ہے"فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا"اے محبوب!تم ہماری نظروں میں رہتے ہو۔یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرا م عین نماز میں حضور انورصلی اللہ علیہ  وسلم کی ادائیں دیکھتے تھے اورحضور انورصلی اللہ علیہ  وسلم کی نقل کرتے تھے۔

۴؎  ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ سرکار اورصحابہ کرام نرم چپل پہنا کرتے تھے جس میں سجدہ بے تکلف ہوجاتا تھا اوریہود کی مخالفت بھی۔ہمارے جوتوں میں نماز جائزنہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جوتا پونچھنے سے پاک ہوجاتا ہے جب کہ دَلْدارنجاست لگی ہو،پیشاب وغیرہ سے بغیر دھوئے پاک نہیں ہوگا۔

767 -[14]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَضَعْ نَعْلَيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَلَا عَنْ يَسَارِهِ فَتَكُونَ عَنْ يَمِينِ غَيْرِهِ إِلَّا أَنْ لَا يَكُونَ عَنْ يسَاره أحد وليضعهما بَيْنَ رِجْلَيْهِ» . وَفَّى رِوَايَةٍ: «أَوْ لِيُصَلِّ فِيهِمَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ مَعْنَاهُ

روایت ہے حضر ت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ  وسلم نے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے نہ اپنی دائیں طرف رکھے نہ بائیں طرف ورنہ دوسرے کے دائیں طرف ہوجائیں گے مگر یہ کہ اس کے بائیں طرف کوئی نہ ہو ۱؎ انہیں دونوں پاؤں کے بیچ میں رکھے اور ایک روایت میں ہے کہ یا ان میں ہی نماز پڑھ لے۲؎ (ابوداؤد)ابن ماجہ نے اس کے معنی روایت کئے۔

۱؎  چونکہ داہنی طرف رحمت کا فرشتہ ہے جو ہماری نیکیاں لکھتا ہے اورنماز میں وہ اپنا کام کررہا ہے لہذا اس کا ادب کرتے ہوئے نہ ادھرتھوکے نہ جوتے رکھے،ہاں اگر داہنی جانب دور جوتے رکھے ہوں توکوئی حرج نہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن