30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
751 -[63] (وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ الصَّلَاةَ فِي الْحِيطَانِ. قَالَ بَعْضُ رُوَاتِهِ يَعْنِي الْبَسَاتِينَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بن أبي جَعْفَر وَقد ضعفه يحيى ابْن سعيد وَغَيره |
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باغوں میں نماز پڑھنا پسند فرماتے تھے ۱؎ بعض راویوں نے فرمایا یعنی بساتین۲؎ (احمد،ترمذی)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حسن ابن ابی جعفر کی حدیث سے ہی جانتے ہیں،انہیں یحیی ابن سعید وغیرہ نے ضعیف کہا۳؎ |
۱؎ یعنی نفل نماز دیواروں کے پیچھے یا باغوں میں بہتر جانتے تھے تاکہ باغوں میں رہنے والے بے تکلف نوافل بلکہ ضرورۃً فرائض پڑھ سکیں ورنہ فرائض مسجد میں افضل ہیں۔
۲؎ یعنی حدیثوں میں جو حیطان آیا یہ حائطہ کی جمع ہے حائطہ دیوار کو بھی کہتے ہیں اور باغ کو بھی کیونکہ وہ دیوار سے گھرا ہوتا ہے،یہاں باغ کے معنی ہیں۔
۳؎ ابوحاتم کہتے ہیں کہ حسن مقبول الدعاء اور بڑے عابد تھے لیکن عبادات میں زیادہ مشغولیت کی وجہ سے حفظ حدیث میں کوتاہی پیدا ہوگئی تھی۔
|
752 -[64] وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ بِصَلَاةٍ وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِ الْقَبَائِلِ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يجمع فِيهِ بخسمائة صَلَاةٍ وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِي بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ وَصلَاته فِي الْمَسْجِد الْحَرَام بِمِائَة ألف صَلَاة» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت انس ابن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کی نماز اپنے گھر میں ایک نماز ہے اور قبیلے کی مسجد میں پچیس نمازیں اور جس مسجد میں جمعہ پڑھا جاتا ہے اس میں ایک نماز پانچ سو نمازیں اور مسجد اقصٰے میں ایک نماز پچاس ہزارنمازیں اور میری مسجد میں ایک نماز پچاس ہزار نمازیں اور مسجد حرام میں ایک نماز ایک لاکھ نمازیں ہیں ۱؎(ابن ماجہ) |
۱؎ مرقاۃ نے فرمایا حدیث کا مطلب یہ ہے کہ گھر کی ایک نماز کا ثواب ایک نماز کے برابر ہے،اور محلہ کی مسجد میں ایک نماز کا ثواب گھر کی پچیس نمازوں کے برابر اور جامع مسجد کی ایک نماز محلہ کی مسجد کی پانچسو نمازوں کے برابر،اورمسجد بیت المقدس جو اسلام کا پہلا قبلہ تھی وہاں کی ایک نماز جامع مسجد کی پچاس ہزارنمازوں کے برابر،اور مسجد نبوی شریف کی ایک نماز بیت المقدس کی پچاس ہزار نمازوں کے برابر اور بیت اﷲ شریف کی ایک نماز مسجد نبوی کی ایک لاکھ نمازوں کے برابر۔مگر خیال رہے کہ یہ ثوابوں کا بڑا فرق ہے،رہی مقبولیت اور قرب الٰہی اس کا یہ حال ہے کہ مسجدنبوی کی ایک نماز بیت اﷲ شریف کی پچاس ہزارنمازوں کے برابر اسی لیے مہاجرین وانصارمسجد نبوی کی نمازکو دل وجان سے پسند کرتے تھے۔شعر
مہاجر چھوڑ کر کعبہ بسے آکر مدینہ میں مدینہ ایسی بستی ہے مدینہ ایسی بستی ہے
معلوم ہوا حضور کے قریب عبادات کا ثواب بڑھ جاتا ہے،اس لیے مسجد نبوی میں صف کا بایاں حصہ داہنے سے افضل ہے کیونکہ وہ روضۂ پاک سے قریب ہے۔خیال رہے کہ تاقیامت نمازوں کا یہ حال ہے مگر حضورکے پیچھے نمازوں کا ثواب اورمقبولیت ہمارے اندازے سے باہر ہے۔
|
753 -[65] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ؟ قَالَ: «الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ» قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيْ؟ قَالَ: «ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى» . قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: «أَرْبَعُونَ عَامًا ثُمَّ الْأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ فَحَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فصل» |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ زمین میں پہلے کون سی مسجد بنائی گئی فرمایا مسجد حرام ۱؎ فرماتے ہیں میں نے کہا پھر کون سی فرمایا پھرمسجد اقصے ۲؎ میں نے کہا ان کے درمیان کتنا فاصلہ تھا فرمایا چالیس سال۳؎ اب ساری زمین تمہارے لئے مسجدہے جہاں نماز کا وقت آجائے وہاں پڑھ لو۴؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع