دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

کا یہ حال ہے تو مصلح عالم کے علم کا کیا حال ہوگا۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ  علیہ  وسلم بھی شیطان کے ہر حال اور اس کے ہر کلام سے مطلع ہیں۔

750 -[62]

وَعَن عَطاء بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «اللَّهُمَّ لَا تجْعَل قَبْرِي وثنا يعبد اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائهمْ مَسَاجِد» . رَوَاهُ مَالك مُرْسلا

روایت ہے حضرت عطا ابن یسار سے ۱؎  فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ  علیہ  وسلم نے الٰہی میری قبر کو بت نہ بنانا جو پوجی جائے ۲؎  اس قوم پر اﷲ کا سخت غضب ہواجنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۳؎۔(مالک ارسالًا)

۱؎  آپ مشہور تابعی ہیں،حضرت ام المؤمنین میمونہ کے آزادکردہ غلام ہیں،۸۴ سال عمر پائی،۹۴ ھ ؁میں وفات پائی۔

۲؎  سبحان اﷲ!حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا ایسی قبول ہوئی کہ ہر سال لاکھوں جاہل و عالم زیارت کے لیے جاتے ہیں مگر نہ کوئی قبر انور کو سجدہ کرتا ہے نہ کوئی اس کی طرف نماز پڑھے یہ اس دعا کا اثر ہے۔خیال رہے کہ یہودونصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام وعزیز علیہ السلام کے ایک دو معجزے سن کر انہیں خدایا خدا کا بیٹا کہہ دیا،اوران کی عبادت کرنے لگے مگر مسلمان ہزار ہا معجزات سن کر بلکہ آنکھوں سے دیکھ کر نہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کہتے ہیں نہ خدا کا بیٹا،جاہل مسلمانوں کا بھی عقیدہ یہ ہے"عَبْدُاﷲِ وَرَسُوْلُہٗ" یہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا ہی کی برکت ہے۔

لطیفہ: بعض لوگ اس حدیث کے ماتحت یہ بیان کرتے ہیں کہ قبروں کی تعظیم کرنا،سال کے سال وہاں جانا،مجمع کرکے زیارتیں کرنا،وہاں چراغاں کرنا سب شرک ہے کیونکہ اس میں قبر پرستی ہے کہ قبر کو بت بنالیا گیا مگر یہ بالکل غلط ہے کیونکہ یہ سارے کام۱۳ سو برس سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور پر ہورہے ہیں،ہرسال زائرین کی بھیڑ ہوتی ہے،ہاتھ باندھ کر سرجھکا کر سلام پڑھا جاتا ہے،رات کو ایمان افروز روشنی ہوتی ہے،سارے علماء،صلحاء،اولیاء یہ کام کرتے ہیں۔فقہاء فرماتے ہیں کہ روضۂ انور پر سلام کرنے اس طرح ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جیسے نماز میں کھڑا ہوتاہے،اگر ان میں سے کوئی کام شرک ہوتا تو حضور صلی اللہ  علیہ  وسلم کے روضہ پر ہر گز نہ ہوتا کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہوچکی ہے۔ان نادانوں کی اس تفسیر سے لازم آئے گا کہ حضور کی یہ دعا رب نے بالکل رد کردی،لہذا یہ حدیث جواز عرس کے متعلق اہل سنت کی قوی دلیل ہے،حدیث سمجھنے کے لیے علم وعقل وعشق کی ضرورت ہے۔

۳؎   اس طرح کہ ان قبروں کی عبادت کرنے لگے یا ان کی طرف نمازیں پڑھنے لگے،پہلا کام شرک ہے دوسرا حرام۔خیال رہے کہ اگر اتفاقًا مسجد میں قبرہوتو نمازی اور قبر کے درمیان پوری آڑ چاہیئے،جیسے مسجد نبوی شریف میں روضۂ اطہر ہے جس کے چاروں طرف نمازیں ہوتی ہیں مگر قبر انور کی چوطرفہ دیواروں کی آڑیں ہیں۔اس کی پوری تحقیق پہلے ہوچکی۔

751 -[63]

(وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ الصَّلَاةَ فِي الْحِيطَانِ. قَالَ بَعْضُ رُوَاتِهِ يَعْنِي الْبَسَاتِينَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بن أبي جَعْفَر وَقد ضعفه يحيى ابْن سعيد وَغَيره

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ  علیہ  وسلم باغوں میں نماز پڑھنا پسند فرماتے تھے ۱؎  بعض راویوں نے فرمایا یعنی بساتین۲؎ (احمد،ترمذی)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حسن ابن ابی جعفر کی حدیث سے ہی جانتے ہیں،انہیں یحیی ابن سعید وغیرہ نے ضعیف کہا۳؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن