30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ یعنی کفر نہ کرتا ہواسے دائمی عذاب نہ دے ایسے مقامات پر شرک بمعنی کفر ہوتا ہے اور عذاب سے دائمی عذاب مراد ورنہ بعض گنہگاروں کو بھی کچھ عذاب ہوجائے گا۔(اشعۃ اللمعات)وغیرہ
۶؎ اس طرح کہ مقصد کلام سمجھیں گے نہیں اور اعمال چھوڑدیں گے کہ جب فقط درستیٔ عقیدہ سے ہی عذاب سے نجات مل جاتی ہے تو نماز وغیرہ عبادات کی کیا ضرورت ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ عالم عوام کو وہ مسئلہ نہ بتائے جو ان کی سمجھ سے ورا ہو۔خیال رہے کہ حضرت معاذ نے اس وقت بشارت نہ دی بلکہ یہ حدیث بطور خبر بعد میں بعض خواص کو سنادی لہذا کوئی اعتراض نہیں اس کا کچھ ذکر اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
|
25 -[24] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذٌ رديفه على الرحل قَالَ: «يَا معَاذ بن جبل قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ يَا مُعَاذُ قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْديك ثَلَاثًا قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُخْبِرُ بِهِ النَّاس فيستبشروا قَالَ إِذا يتكلوا وَأخْبر بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا» |
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کجاوہ پر تھے معاذ حضور کے ردیف تھے حضور نے فرمایا اے معاذ عرض کیا حاضر ہوں یا رسول اﷲ خدمت میں فرمایا اے معاذ عرض کیا یارسول اﷲ حاضر ہوں خدمت میں فرمایا اے معاذ عرض کیا حاضر ہو خدمت میں تین بار ۱؎ فرمایا ایسا کوئی نہیں جو گواہی دے کہ اﷲ کے سوا معبود نہیں اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں۔سچے دل سے ۲؎ مگر اﷲ اسے آگ پر حرام فرمادے گا۔۳؎عرض کی یارسول اﷲ تو کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں کہ وہ خوش ہوجائیں فرمایا تب تو وہ بھروسہ کر بیٹھیں گے ۴؎پھر حضرت معاذ نے گناہ سے بچنے کے لیے ۵؎ اپنی وفات کے وقت خبر دے دی۶؎ |
۱؎ حضرت معاذ کو تین بار پکارنا کچھ نہ فرمانا زیادتی شوق کے لیے تھا کہ حضرت معاذ کلام سننے کے پورے مشتاق ہوجائیں جو بات انتظار کے بعد سنی جاتی ہے خوب یاد رہتی ہے۔"لبیك وسعدیك"کا اردو میں مختصر ترجمہ یہ ہے کہ میں خدمت میں حاضر ہوں چھوٹے کو چاہئیے کہ بڑے کا ادب بہرحال کرے۔
۲؎ اس طرح کہ دل سے اس کو مانے اور زبان سے اقرار کرے،لہذا منافق اس بشارت سے علیحدہ ہے،اور ساتر یعنی دل کا مؤمن زبان سے خاموش اس پر شریعت میں اسلامی احکام جاری نہ ہوں گے۔خیال رہے کہ عمر میں ایک بار زبان سے کلمۂ شہادت پڑھنا فرض ہے اور مطالبہ کے وقت بھی ضروری۔
۳؎ اس طرح کہ وہ آگ میں ہمیشہ نہ رہے گا یا آگ اس کے دل و زبان کو نہ جلا سکے گی کیونکہ یہ ایمان اور شہادت کے مقام ہیں کافر کا قلب و قالب دونوں جلائے گی،رب فرماتا ہے:"تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْـِٕدَۃِ"یا حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو کافر مرتے وقت ایمان لائے اور کسی عمل کا موقع نہ پائے اس کے لیے یہ بشارت ہے۔بہرحال یہ حدیث نہ قرآن کے خلاف ہے،نہ دیگر احادیث کے کوئی مؤمن عمل سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔
۴؎ حضرت معاذ نے اس بشارت کی تبلیغ کی اجازت مانگی یہ معلوم کرنے کے لیے کہ یہ حکم تبلیغی امور میں سے ہے یا اسرار الہٰیہ میں سے۔شرعی احکام سب کے لیے ہیں،طریقت کے اسرار اہل کے لیے۔خیال رہے کہ عوام بشارت سن کر بے پرواہ ہوجاتے ہیں،مگر خواص بشارت پا کر زیادہ نیکیاں کرنے لگتے ہیں۔رب نے اپنے حبیب سے فرمایا"لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ"الخ تو حضور نے نیکیاں اور زیادہ کیں۔عثمان غنی سے فرمایا تھا کہ جو چاہو کرو تم جنتی ہوچکے تو ان کے اعمال اور زیادہ ہوگئے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع