30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
744 -[56] وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِد فحصبني رجل فَنَظَرت فَإِذا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَذَيْنِ فَجِئْتُهُ بِهِمَا فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتُمَا أَوْ مِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا قَالَا: مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ. قَالَ: لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَأَوْجَعْتُكُمَا تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت سائب ابن یزیدسے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں سورہا تھاکسی نے مجھے کنکری ماری میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق تھے ۲؎ فرمایا جاؤ ان دونوں کو میرے پاس لاؤ میں ان دونوں کو لے کر آیا فرمایا تم لوگ کون ہو یا کہاں سے آئے ہو وہ بولے ہم طائف والے ہیں فرمایا اگر تم مدینہ والوں میں سے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا ۳؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آوازیں اونچی کرتے ہو۴؎(بخاری) |
۱؎ آپ بہت نوعمرصحابی ہیں،اپنے والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں حضور کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اس وقت آپ کی عمر سات سال تھی۔
۲؎ حضرت سائب کا مسجدنبوی میں سونا یا اس لیے تھا کہ آپ مسافر تھےیا نیت اعتکاف کرلیتے تھےیا آپ جائز سمجھتے تھے۔بعض علماءمسجد میں سونے کو مکروہ کہتے ہیں،بعض بلاکراہت جائز،حضرت فاروق اعظم نے انہیں آواز دے کر نہ جگایا مسجد پاک کا احترام کرتے ہوئے۔
۳؎ مسجدنبوی میں بلند آواز سے باتیں کرنے پر کیونکہ مدینہ والے یہاں کے آداب سے واقف ہیں تم لوگ پردیسی ہو مسائل سے پورے واقف نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ حاکم گناہ صغیرہ پربھی تعزیرًا سزا دے سکتا ہے،جہاں علم کی روشنی کم پہنچتی ہویابالکل نہ پہنچی ہو وہاں کے لوگوں کو بے علمی پرمعذور رکھا جاسکتا ہے،ورنہ بے علمی عذرنہیں۔خیال رہے کہ طائف حجاز کا مشہورشہر ہے،مکہ معظمہ سے تین منزل دورسیدنا عبداﷲ ابن عباس کا مزار پرنوار وہیں ہے۔فقیرنے زیارت کی ہے۔
۴؎ مرقاۃ نے فرمایا کہ مسجدنبوی کی حرمت دوسری مسجدوں سے زیادہ ہے کہ حضور اپنی قبر شریف میں زندہ ہیں،وہاں حضور کا دربار ہے،اس کا ادب چاہیئے۔وہ حضرات دنیوی باتیں اونچی آواز سے کررہے تھے،ورنہ مسجد میں درس و تدریس،ذکر اﷲ،نعت شریف وغیرہ بلند آواز سے کرسکتے ہیں،جب کہ نمازیوں کو تکلیف نہ ہو۔
|
745 -[57] وَعَن مَالك قَالَ: بَنَى عُمَرُ رَحَبَةً فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ تُسَمَّى الْبُطَيْحَاءَ وَقَالَ مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنَّ يَلْغَطَ أَوْ يُنْشِدَ شِعْرًا أَوْ يَرْفَعَ صَوْتَهُ فَلْيَخْرُجْ إِلَى هَذِهِ الرَّحَبَةِ. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأِ |
روایت ہے حضرت مالک سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمرنے مسجد کے گوشے میں چبوترہ بنایا تھا جسے بطیحاءکہاجاتاتھا ۱؎ اورفرمایا جوباتیں کرنایاشعر پڑھنا یا شورکرنا چاہے وہ اس چبوترے کی طرف چلا جائے ۲؎(موطا) |
۱؎ کیونکہ اس کا فرش بجری کا تھا۔بطحاءبمعنی کنکریلی زمین۔یہ جگہ مسجد کے خارجی حصّہ میں تھی نہ کہ داخلی حصّہ میں،ورنہ اس کے آداب بھی مسجدجیسے ہوتے۔
۲؎ شعر سے مراد دنیوی اشعار ہیں۔شور سے مرادبھی دنیوی باتیں اونچی آواز سے کرنا ہیں،ورنہ نعت شریف ذکر بالجہر مسجد میں جائزہے۔مسلم شریف میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام ہرنمازفرض کے بعد خوب اونچی آواز سے ذکراﷲ کرتے تھے۔
|
746 -[58] وَعَن أنس: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجهه فَقَامَ فحكه بِيَدِهِ فَقَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صلَاته فَإِنَّمَا يُنَاجِي ربه أَو إِن رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَلَا يَبْزُقَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ قِبْلَتِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ» ثُمَّ أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ فَقَالَ: «أَوْ يفعل هَكَذَا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے کی جانب رینٹھ دیکھی ۱؎ آپ کوناگوارگزرا حتی کہ ناگواری چہرۂ انور میں دیکھی گئی پھر اٹھے اسے اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا۲؎ فرمایا کہ تم میں سے کوئی جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اپنے رب سے باتیں کرتا ہے اور اس کا رب اس کے اور قبلے کے درمیان ہوتاہے۳؎ لہذا کوئی قبلے کی طرف ہرگز نہ تھوکے لیکن بائیں طرف یاپاؤں کے نیچے۴؎ پھراپنی چادر کا کونہ پکڑا اس میں تھوکا پھراسے مل ڈالا فرمایا یا ایسے کرے۵؎(بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع