30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ یعنی اس سے پہلے لاکھوں پردے ہوا کرتے تھے لیکن آج ایک لاکھ سے بھی کم رہ گئے۔شیخ نے فرمایا کہ یہ پردے مخلوق کے لحاظ سے نہ خالق کے لحاظ سے،یعنی مخلوق حجاب میں ہے نہ کہ خالق،جیسے نابینا سے آفتاب چھپا ہے مگر حجاب اس کی آنکھ پرہے نہ کہ سورج پر۔خیال رہے کہ ہم لوگ ظلماتی حجابوں میں ہیں اورملائکہ نورانی حجابوں میں۔
|
742 -[54] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ جَاءَ مَسْجِدي هَذَا لم يَأْته إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ أَوْ يُعَلِّمُهُ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو میری اس مسجد میں آئے مگر نہ آئے سوائے بھلائی سیکھنے یا سکھانے تو وہ غازی فی سبیل اﷲ کے درجے میں ہے ۱؎ اورجو اس کے سواکسی کام کے لئے آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو دوسرے کا مال تکے۲؎(ابن ماجہ)اوربیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔ |
۱؎ یعنی مسجدنبوی شریف میں علم دین سیکھناسکھانا دوسر ی جگہ سیکھنے سکھانے سے افضل ہے،جیسے یہاں کی ایک نمازپچاس ہزارکے برابر،ویسے ہی یہاں کا ایک سبق پڑھنا پڑھاناپچاس ہزاراسباق کے برابر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کی برکت سے اسی لیے بعض علماء مسجد نبوی شریف میں وعظ کہنے اور درس دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مسجدوں میں علم دین کے مدرسے جائز ہیں،امام بخاری نے حرم شریف میں بخاری لکھی۔
۲؎ یعنی جیسے وہ تکنے والا خیرسے محروم ہے،ایسے ہی یہ خیر سے محروم۔خیال رہے کہ یہاں خیر سے مرادکوئی دنیوی کام ہے،یعنی جومسجدنبوی شریف میں فقط عمارت یارونق دیکھنے کے لیے جائے کسی عبادت کی نیت نہ کرے وہ بڑا بدنصیب ہے۔اس غیرسے مرادحضور کا دیدارنہیں کہ یہ تو وہاں کی حاضری کا اصل مقصود ہے۔خیال رہے کہ حاجی حضور کی زیارت کی نیت سے مدینہ منورہ جائے اسی پر وعدۂ شفاعت ہے کہ فرمایا "مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَہٗ شَفَاعَتِیْ"۔جو بدنصیب صر ف وہ مسجد دیکھنے جائیں وہ اس شفاعت سے محروم ہیں،لہذا یہ حدیث ان کی دلیل نہیں ہمارے خلاف نہیں۔
|
743 -[55] وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ حَدِيثُهُمْ فِي مَسَاجِدِهِمْ فِي أَمْرِ دُنْيَاهُمْ. فَلَا تُجَالِسُوهُمْ فَلَيْسَ لِلَّهِ فِيهِمْ حَاجَةٌ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان |
روایت ہے حضرت حسن سے مرسلًا فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ان کی دنیاوی باتیں مسجدوں میں ہوں گی تم ان میں نہ بیٹھنا ۱؎ ایسوں کی اﷲ کو ضرورت نہیں ۲؎ بیہقی شعب الایمان۔ |
۱؎ علماء فرماتے ہیں کہ مسجد میں دنیوی جائزباتیں بھی نیکیاں بربادکردیتی ہیں۔دنیا کی قید سے معلوم ہوا کہ وہاں دینی باتیں جائزہیں۔
۲؎ یعنی اﷲ ان پرکرم نہ کرے گا،ورنہ رب کو کسی بندے کی ضرورت نہیں،وہ ضرورتوں سے پاک ہے۔
|
744 -[56] وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِد فحصبني رجل فَنَظَرت فَإِذا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَذَيْنِ فَجِئْتُهُ بِهِمَا فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتُمَا أَوْ مِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا قَالَا: مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ. قَالَ: لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَأَوْجَعْتُكُمَا تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت سائب ابن یزیدسے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں سورہا تھاکسی نے مجھے کنکری ماری میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق تھے ۲؎ فرمایا جاؤ ان دونوں کو میرے پاس لاؤ میں ان دونوں کو لے کر آیا فرمایا تم لوگ کون ہو یا کہاں سے آئے ہو وہ بولے ہم طائف والے ہیں فرمایا اگر تم مدینہ والوں میں سے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا ۳؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آوازیں اونچی کرتے ہو۴؎(بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع