30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور کعب ابن زبیر مسجد نبوی میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نعت خوانی کیا کرتے تھے۔اس کی بحث انشاءاﷲ "باب الشعراء"میں آئے گی۔
۳؎ کیونکہ یہ دنیوی کاروبارہے جومسجدوں میں ممنوع ہے۔آج کل مسجدحرام شریف میں غلافِ کعبہ اورکتب رکھ کر بیچی جاتی ہیں یہ بھی منع ہے،ہاں معتکف بحالت اعتکاف مسجدمیں بیوپار کی باتیں کرسکتا ہے وہاں مال نہیں لاسکتا۔
۴؎ اس وقت وہاں صف بناکربیٹھناچاہیئے،ہاں نماز کے بعد وعظ وغیرہ سننے کے لیے حلقے بناکربیٹھناجائز ہے کیونکہ اب نماز کا انتظارنہیں ہے۔
|
733 -[45] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ فَقُولُوا: لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ. وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ ضَالَّةً فَقُولُوا: لَا رَدَّ اللَّهُ عَلَيْكَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم اسے دیکھو جومسجدمیں خریدو فروخت کررہا ہے تو کہہ دو اﷲ تیری تجارت میں نفع نہ دے ۱؎ اورجب تم وہاں کسی کو گمی ہوئی چیز ڈھونڈھتے دیکھو تو کہہ دو خدا کرے تیری چیز نہ ملے ۲؎(ترمذی ودارمی) |
۱؎ معلوم ہوا کہ گناہ پر بددعا دینا جائز ہے۔بہتر یہ ہے کہ اسے سنا کر بددعا دے تاکہ تبلیغ بھی ہوجائے۔خریدو فروخت سے مرادصرف خریدوفروخت کی باتیں بھی ہیں اوروہاں مال حاضر کرکے بیچنابھی۔
۲؎ اس کی شرح گزر چکی کہ ڈھونڈنے سے مراد شورمچاکر تلاش کرنا ہے۔
|
734 -[46] وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْتَقَادَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنْ يُنْشَدَ فِيهِ الْأَشْعَارُ وَأَنْ تُقَامَ فِيهِ الْحُدُودُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي سُنَنِهِ وَصَاحِبُ جَامِعِ الْأُصُولِ فِيهِ عَنْ حَكِيمٍ |
روایت ہے حضرت حکیم ابن حزام سے فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قصاص لینے ۱؎ اور وہاں اشعار پڑھنے اوروہاں حدیں قائم کرنے سے منع فرمایا ۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ کیونکہ اس میں خون وغیرہ سے مسجد خراب ہوگی۔
۲؎ غالبًا حدوں سے مرادحقوق اﷲ کی سزائیں ہیں،جیسے چوری اورزنا کی سزا،قصاص حق عبد کی سزا تھی۔خیال رہے کہ مسجدمیں قاضی مقدمات سن سکتاہے مگر سزا مسجد کے باہردی جائے۔
|
735 -[47] وَفِي المصابيح عَن جَابر |
جامع الاصول میں حکیم سے اور مصابیح میں جابر سے۔ |
|
736 -[48] وَعَن مُعَاوِيَة بن قُرَّة عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ يَعْنِي الْبَصَلَ وَالثُّومَ وَقَالَ: «مَنْ أَكَلَهُمَا فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدنَا» . وَقَالَ: «إِن كُنْتُم لابد آكليهما فأميتوهما طبخا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت معاویہ ابن قرہ سے ۱؎ وہ اپنے والدسے راوی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو درختوں یعنی پیازو لہسن سے منع فرمایا اور فرمایا کہ جو یہ کھائے ہماری مسجد کے قریب نہ آئے ۲؎ اورفرمایا اگرتمہیں ضروری کھانا ہو تو انہیں پکا کر مار دیاکرو۳؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع