30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی ان کا اجروثواب اﷲ کے ذمۂ کرم پر ہے یا یہ لوگ اﷲ کی ضمان اور امان میں ایسے ہیں جیسے سرکاری ملازم ڈیوٹی پر حکومت کی امان میں،کہ اس کی بے عزتی کرنا حکومت کا مقابلہ ہے۔ایسے ہی ان لوگوں سے جھگڑنا رب کا مقابلہ ہے۔
۲؎ یعنی اگر مارا گیا تو شہید اور اگر زندہ لوٹا تو اگر ہارکر آیاتو صرف ثواب اور اگر جیت کر آیا تو ثواب و غنیمت دونوں لایا۔
۳؎ معلوم ہوا کہ گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا بڑا بہتر کام ہے۔اس سے گھر میں اتفاق،رزق کی برکت اور نیک اعمال کی توفیق نصیب ہوتی ہے،حتی کہ اگر خالی گھر میں جائے تو یوں کہدے"اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ"اس کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ تیسرا وہ شخص جوسلامتی سے اپنے گھر میں رہے بلاوجہ لوگوں میں نہ پھرے،جیسا کہ دوسری حدیث سے معلوم ہورہا ہے۔
|
728 -[40] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَة فَأَجره كَأَجر الْحَاج الْمُحْرِمِ وَمَنْ خَرَجَ إِلَى تَسْبِيحِ الضُّحَى لَا يُنْصِبُهُ إِلَّا إِيَّاهُ فَأَجْرُهُ كَأَجْرِ الْمُعْتَمِرِ وَصَلَاةٌ عَلَى إِثْرِ صَلَاةٍ لَا لَغْوَ بَيْنَهُمَا كِتَابٌ فِي عليين» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرض نماز کے لئے اپنے گھر سے وضو کرکے نکلے تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کی طر ح ہے ۱؎ اورجو چاشت کی نماز کے لئے نکلے کہ یہ نماز ہی اسے نکالے تو اس کا ثواب عمرہ والے کی طر ح ہے ۲؎ اورنماز کے بعد دوسری نمازجس کے درمیان کوئی بیہودہ بات نہ ہو اس کی علیین میں تحریر ہے۳؎(احمد،ابوداؤد) |
۱؎ کیونکہ حاجی کعبہ میں جاتا ہے اور یہ مسجد میں،یہ دونوں اﷲ کا گھر ہیں۔حاجی حج کا احرام باندھتا ہے اور یہ نماز کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے۔اور جیسے کہ حج خاص تاریخوں میں ہوتا ہے مگر حاجی گھر سے نکلنے سے لوٹنے تک ہروقت اجرپاتا ہے،ایسے ہی نماز کی جماعت اگرچہ خاص وقت میں ہوگی مگر نمازی کے نکلنے سے لوٹنے تک اﷲ کی رحمت میں ہی رہتا ہے۔
۲؎ خیال رہے کہ نمازچاشت اور دیگرنوافل اگرچہ گھر میں افضل ہیں لیکن اگر گھر کے مشاغل بچوں کے شور کی وجہ سے مسجد میں پڑھے تو بھی بہتر،یہاں یہی مراد ہے۔بعض علماءفرماتے ہیں کہ نماز چاشت مسجد میں ہی افضل ہے،ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔
۳؎ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ فرض کے بعد متصل نفل و سنتیں پڑھے،درمیان میں دنیوی کام نہ کرے۔دوسرے یہ کہ پنجگانہ فرائض کے درمیان بھی یہ سمجھ کر گناہ سے بچے کہ میں ظاہروباطن پاک رہ کر رب کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں تو اس کا فعل "علیّین"میں لکھا جائیگا۔علیّین ساتویں آسمان کے اوپر ہے جہاں ابرار کے نیک اعمال لکھے جاتے ہیں،چونکہ یہ اونچی جگہ واقعہ ہوا ہے اس لیے علیّین کہلاتا ہے۔
|
729 -[41] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: «الْمَسَاجِدُ» . قُلْتُ: وَمَا الرَّتْعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَالله أكبر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہی حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم جنت کے باغوں سے گزروں تو کچھ چرلیا کرو ۱؎ عرض کیا گیا کہ حضور جنت کے باغ کیا ہیں؟ فرمایا مسجدیں عرض کیا گیا چرنا کیا ہے یارسول اﷲ؟ فرمایا سبحان اﷲ والحمدﷲ اور لا الہ الا اﷲ اور اﷲ اکبر کہنا۲؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع