30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
718 -[30] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَمَرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتِ الْيَهُود وَالنَّصَارَى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مجھے مسجدوں کی ٹیپ ٹاپ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ۱؎ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ تم لوگ یہودیوں اور عیسائیوں کیطرح مسجدوں کو سنوارو گے۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ اس سے مرادناجائز آراستگی ہے،جیسے فوٹوؤں اورتصویروں سے سجانایافخریہ آرائش مراد ہے جو اﷲ تعالٰی کے لیے نہ ہو۔بہر حال جائز زینت جو اخلاص کے ساتھ ہوباعث ثواب ہے۔
۲؎ یعنی جیسے عیسائی،یہودی اپنی عبادت گاہوں کوفوٹوؤں اورقد آدم آئینوں سے سجاتے ہیں،قیامت کے قریب مسلمان بھی مسجدوں کو ان سے آراستہ کریں گے،ورنہ مسجدکی زینت سنت صحابہ ہے۔چنانچہ عمر فاروق نے مسجدنبوی شریف کو مزین کیا،پھرعثمان غنی نے اس کی دیواریں چونے گچ سے خوب نقْشیں بنائیں،چھت میں ساگوان لکڑی لگائی،حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس میں اتنی روشنی کی تھی کہ اس میں عورتیں تین میل تک چرخہ کات لیتی تھیں۔اس کی تحقیق ہماری کتاب"جاء الحق"میں دیکھو۔
|
719 -[31] وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «من أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے علامات قیامت سے یہ ہے کہ لوگ مسجدوں میں شیخی فخرکیا کریں گے ۱؎(ابوداؤد،نسائی،دارمی،ابن ماجہ) |
۱؎ یہ حدیث اورحضرت ابن عباس کا گزشتہ فرمان اس ممانعت کی بہترین تفسیر ہے،یعنی ناجائز چیزوں سے مسجدسجانایا فخروریاء کے طریقہ پرمسجدسجانا منع ہے۔مسلمان شبِ قدر میں مسجدوں میں چراغاں کرتے اور جھنڈیاں وغیرہ لگاتے ہیں۔بعض لوگ اس حدیث کی بناء پر اس سے منع کرتے ہیں یہ غلط ہے۔جب شادی بیاہ میں ہمارے گھر آراستہ ہوتے ہیں تو متبرک تاریخوں میں اﷲ کے گھر کیوں آراستہ نہ ہوں۔
|
720 -[32] وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «عُرِضَتْ عَلَيَّ أُجُورُ أُمَّتِي حَتَّى الْقَذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَعُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوتِيهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پرمیری امت کے ثواب پیش کئے گئے حتی کہ وہ کوڑا جسے آدمی مسجدسے نکال دے ۱؎ اورمجھ پرمیری امت کے گناہ پیش کئے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہ دیکھا کہ کسی شخص کو قرآن کی سورہ یا آیت دی جائے پھر وہ اسے بھلا دے۲؎ (ترمذی،ابوداؤد) |
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ مسجدمیں جھاڑو دینا،اس کی دیواروں اورچھت کی مرمّت کرنابہترین عمل ہے۔
۲؎ اس طرح کہ اس کا دور نہ کرے،نمازوں میں نہ پڑھے اس لیے بھول جائے۔اگر کوئی بڑھاپے کی وجہ سے کوئی آیت یاد نہ رکھ سکے تو شایدمجرم نہ ہو۔خیال رہے کہ گناہ کبیرہ اور گناہ عظیم میں فرق ہے یہ بھول جانا گناہ عظیم ہے گناہ کبیرہ نہیں،لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں فرمایا گیا کہ بڑا گناہ کبیرہ شرک ہے۔
|
721 -[33] وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضر ت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ان لوگوں کو قیامت کے دن پوری روشنی کی خوشخبری دو جو اندھیروں میں مسجدوں کو جاتے ہیں ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع