30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ شیخ نے لمعات میں فرمایا کہ اگر قبر مٹ بھی گئی ہو مگرمشہور ہوکہ یہاں قبرتھی وہاں بھی نماز نہ پڑھے،لیکن بزرگ کی قبر کے پاس نماز پڑھنا تاکہ اس کی روح سے مدد لے کرنمازکو زیادہ قابل قبول بنائے بہت ہی بہتر ہے۔(لمعات)
|
714 -[26] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا» |
روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اپنی کچھ نمازیں اپنے گھروں کے لئےمقررکرو ۱؎ اورگھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ اس طرح کہ فرض مسجدمیں پڑھو اورسنت ونفل گھر میں آکر یا نماز پنجگانہ مسجد میں پڑھو اورنمازتہجد،چاشت وغیرہ گھر میں،تاکہ نماز کا نورگھروں میں رہے اورعورتوں وبچوں کوتمہیں دیکھ کرنماز کا شوق ہو،نیز گھر کی نماز میں ریاءکم ہوتی ہے۔
۲؎ یعنی قبرستان کی طرح انہیں نماز سے خالی مت رکھو یا گھروں میں مردے دفن نہ کرو۔خیال رہے کہ گھر میں دفن ہونا حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات سے ہے،پھرحضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے سے حضرت صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما کو یہ شرف نصیب ہوا۔دوسروں کو شہرسے باہرقبرستان ہی میں دفن کرنا چاہیئے۔بعض لوگ اپنی تعمیر شدہ مسجدیا مدرسے میں اپنی قبر کی جگہ رکھتے ہیں اور وہیں دفن کئے جاتے ہیں اور وہ اس حدیث کی زد میں نہیں آتے کیونکہ اس سے وہ جگہ قبرستان نہیں بن جاتی۔ "قبورًا"میں اسی طرف اشارہ ہے نہ ان کی قبر کھودکر لاش نکالناجائزکہ بعددفن میت نکالنا جائز نہیں،الا لحق ادمی۔
|
715 -[27] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہ پورب و پچھم کے درمیان قبلہ ہے ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ یہ حدیث مدینہ والوں کے لیے ہے کیونکہ وہاں کعبہ جانب جنوب ہے،ہمارے ہاں قبلہ جانب مغرب ہے۔اس سے اشارۃً یہ معلوم ہوا کہ اگرنمازی کا منہ ۴۵ ڈگری سے کم کعبہ سے پھر جائے نماز ہوجائے گی کیونکہ اس حال میں وہ مشرق و مغرب کے مابین رہے گا۔
|
716 -[28] وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيعَةً لَنَا فَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ. فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأ و تمضمض ثمَّ صبه فِي إِدَاوَةٍ وَأَمَرَنَا فَقَالَ: «اخْرُجُوا فَإِذَا أَتَيْتُمْ أَرْضَكُمْ فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ وَانْضَحُوا مَكَانَهَا بِهَذَا الْمَاءِ وَاتَّخِذُوهَا مَسْجِدًا» قُلْنَا: إِنَّ الْبَلَدَ بَعِيدٌ وَالْحَرَّ شَدِيدٌ وَالْمَاءَ يُنْشَفُ فَقَالَ: «مُدُّوهُ مِنَ الْمَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ إِلَّا طِيبًا» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ |
روایت ہے حضرت طلق ابن علی سے فرماتے ہیں کہ ہم وفدکی صورت میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ۱؎ تو ہم نے آپ کی بیعت کی اور اس کے ساتھ نماز پڑھی۲؎ اورہم نے آپ کوخبردی کہ ہماری زمین میں ہمارا گرجا ہے ہم نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے وضو کا غسالہ مانگا تو آپ نے پانی منگایا وضوکیا اورکلی کی پھریہ پانی ایک برتن میں بھردیا اورہم کو دیا فرمایاجاؤ۳؎ جب اپنے وطن کوپہنچوتو اپناگرجا توڑ ڈالو اوراس کی جگہ یہ پانی چھڑک دو۴؎ اوراُسے مسجد بنالو ہم نے عرض کیا کہ ہمارا شہر دور رہے اورگرمی سخت ہے پانی سوکھ جائے گا۵؎ فرمایا اسے اورپانی سے بڑھاتے رہو اس سے برکت ہی بڑھے گی۶؎(نسائی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع