30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
706 -[18] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ -[222]- سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ: لَا رَدَّهَا اللَّهُ عَلَيْكَ فَإِنَّ الْمَسَاجِد لم تبن لهَذَا ". رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جوشخص کسی کو مسجدمیں گمی چیز ڈھونڈتے سنے ۱؎ تو کہہ دے خداتجھے وہ چیزواپس نہ دے کہ مسجدیں اس لیئےنہیں بنی ہیں ۲؎(مسلم) |
۱؎ چیخ کرشورمچاکرجس سے نمازیوں کی نمازوں میں خلل واقع ہو کیونکہ خاموشی سے گمشدہ چیزمسجد میں ڈھونڈھ لینا ممنوع نہیں جیسا کہ منشاء حدیث سے ظاہر ہے۔
۲؎ یعنی مسجدیں دنیاوی باتیں کرنے،شورمچانے کے لئےنہیں بنیں،یہ تو نماز اور اﷲ کے ذکر کے لیےبنی ہیں۔بہتریہ ہے کہ اس شورمچانے والے کو سناکر کہے تاکہ وہ اس سے باز آجائے۔اس سے معلوم ہوا کہ مسجد میں بھیک مانگنا دیگر قسم کی دنیاوی باتیں کرنا منع ہے۔بلکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ مسجد کے بھکاری کو خیرات نہ دو کہ یہ گناہ پر مدد ہے،حضرت علی مرتضٰی نے جو نماز کی حالت میں سائل کو انگوٹھی خیرات کی وہ سائل غالبًا مسجد سے باہرہوگا یا آپ مسجد کی علاوہ کسی اور جگہ نماز پڑھ رہے ہوں گے۔خیال رہے کہ نکاح،دینی وعظ،نعت خوانی،قاضیٔ اسلام کے فیصلے یہ سب چیزیں دینی ہیں،لہذا مسجدمیں جائز ہیں۔ان کے متعلق احادیث وارد ہیں،البتہ جماعت کے وقت جب پہلی جماعت ہورہی ہو یہ کام نہ کئے جاویں تاکہ نماز میں حرج نہ ہو بعدمیں کئے جاویں۔
|
707 -[19] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ» |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اس بدبودار درخت سے کچھ کھائے تو ہماری مسجدکے قریب نہ آئے ۱؎ کیونکہ فرشتے بھی اس سے ایذا پاتے ہیں جس سے انسان ایذا پاتے ہیں۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی جوکچی پیازیاکچا لہسن کھائے تو جب تک منہ سے بو آتی ہو تب تک کسی مسجد میں نہ آئے،لہذا حقہ پی کر،کچی مولی یا گندناکھاکربھی نہ آئے،نیز جس کے کپڑوں یا منہ سے بدبو ظاہرہومسجد میں نہ آئے،گندہ دہن کا حکم بھی یہی ہے۔خیال رہے کہ تمام دنیا کی مسجدیں حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں،لہذا مَسْجِدُنَایعنی ہماری مسجد فرمانا درست ہے۔اس سے صرف مسجدنبوی مرادنہیں،جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔بعض روایا ت میں بجا ئے مَسْجِدُنَا کے اَلْمَسَاجِدُ ہے۔
۲؎ یعنی اگرمسجدانسانوں سے خالی بھی ہو تب بھی وہاں بدبُولے کر نہ جائے کہ وہاں رحمت کے فرشتے ہروقت رہتے ہیں اس کی بدبو سے ایذاء پائیں گے۔خیال رہے کہ مسجد کے فرشتے رحمت کے فرشتے ہیں،ان کی طبیعت نازک اوران کا احترام زیادہ ہے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ فرشتے تو ہر انسان کے ساتھ ہر وقت رہتے ہیں تو چاہیئے کہ کبھی یہ چیزیں نہ کھائے کیونکہ اﷲ تعالٰی نے ساتھی فرشتوں کی طبیعت اورقسم کی بنائی ہے۔علماءفرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے کسی مجمع میں بدبو دار منہ یاکپڑے لےکر نہ جائے تاکہ لوگوں کو ایذاء نہ پہنچے۔
|
708 -[20] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِد خَطِيئَة وكفارتها دَفنهَا» |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدمیں تھوکنا گناہ ہے اس کاکفارہ اسے دفن کردیناہے ۱؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع