30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
698 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ نُزُلَهُ مِنَ الْجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جوشخص صبح یا شام مسجدکوجائے جب کبھی صبح یا شام جائیگا اﷲ اس کے لیئےجنت کی مہمانی کا سامان بنائیگا ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ صبح شام سے مراد ہمیشگی ہے،یعنی جوہمیشہ نماز کے لیےمسجد میں جانے کا عادی ہوگا اسے ہمیشہ جنتی رزق ملے گا۔نُزُل اس کھانے کو کہتے ہیں جومہمان کی خاطرپکایا جائے،چونکہ وہ پرتکلف ہوتا ہے اورمیزبان کی شان کے لائق،اس لئےجنتی کھانے کو نُزُلْ فرمایا گیا،ورنہ جنتی لوگ وہاں مہمان نہ ہوں گے مالک ہوں گے۔
|
699 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْظَمُ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشًى وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ أَعْظَمُ أجرا من الَّذِي يُصَلِّي ثمَّ ينَام» |
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں نماز کا ثواب پانے والا وہ ہے جس کا راستہ دراز ہو پھروہ جس کا راستہ درازہو ۱؎ اورجونماز کا انتظارکرے حتی کہ امام کے ساتھ پڑھے اس کا ثواب اس سے زیادہ ہے جونماز پڑھے پھرسوجائے ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی جس کا گھر اپنی مسجد سے دورہو،پھروہ مسجدمیں جماعت سے نماز پڑھاکرے اسے بقدرقدم ثواب ملے گا۔یہ مطلب نہیں کہ محلے کی مسجد چھوڑکرخواہ مخواہ دورکی مسجدمیں پہنچا کرے،ہاں اگرمحلے کی مسجد کا امام بدعقیدہ ہے تو اورجگہ جاسکتاہے۔
۲؎ خواہ اکیلے نماز پڑھ کر،خواہ دوسرے امام کے پیچھے جماعت سے پڑھ کر کیونکہ جماعت اول کا زیادہ ثواب ہے اور جماعت اول وہی ہے جو امام مسجد کے ساتھ پڑھی جائے،ہاں اگر وہ امام وقت مکروہ میں نماز پڑھتاہوتو اکیلا ہی پڑھ لے،جیسا کہ گزشتہ احادیث میں گزرچکا۔
|
700 -[12] وَعَن جَابر قَالَ: خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ: «بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ» . قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ. فَقَالَ: «يَا بَنِي سَلِمَةَ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَاركُم دِيَاركُمْ تكْتب آثَاركُم» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابرسے فرماتے ہیں مسجد کے اردگرد کچھ مکانات خالی ہوئے تو بنوسلمہ نے چاہا ۱؎ کہ مسجد کے قریب آن بسیں۲؎ یہ خبرحضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوپہنچی تو آپ نے ان سے فرمایا مجھے خبرپہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب آن بسنا چاہتے ہو وہ بولے ہاں یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے یہ ارادہ تو کیا ہے فرمایا اے بنو سلمہ اپنے گھروں ہی میں رہو تمہارے نقش قدم لکھے جارہے ہیں اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نقش قدم لکھے جارہے ہیں۳؎(مسلم) |
۱؎ یہ انصار کا ایک قبیلہ ہے جن کے گھرمسجدنبوی شریف سے بہت دور تھے۔
۲؎ یعنی ان لوگوں نے یہ کوشش نہ کی کہ اپنے محلے میں الگ مسجد بنالیں،بلکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز کے لئےاپنے گھرچھوڑدینا اورمحلہ خالی کردینا گواراکرلیا۔
۳؎ تمہارے نامۂ اعمال میں ثواب کے لیے کیونکہ مسجدکی طرف ہرقدم عبادت ہے یاتمہاری اس مشقت کا تذکرہ حدیث کی کتب میں اورعلماء کی تصانیف میں لکھاجائے گا،واعظین اس پر وعظ کریں گے،جوتمہارے واقعے سن کر دورسے مسجد میں آیا کریں گے،ان سب کا ثواب تمہیں ملاکرے گا۔خیال رہے کہ گھر کا مسجد سے دور ہونا متقی کے لئےباعث ثواب ہے کہ وہ دور سے جماعت کے لئےآئے گا مگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع