30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسجدقباءانصارکی مسجدہے اور وہ حضرات مقبولینِ بارگاہ تھے،وہاں پیشانیاں رگڑنا اورسجدے کرنا قبولیت کا ذریعہ ہے۔حضور خواجہ اجمیر قدس سرہ نے لاہور آکر حضرت داتا صاحب کی پائنتی چلہ کیا وہ اسی حدیث سے ماخوذ تھا۔ڈاکٹراقبال نے کیا خوب فرمایا
سید ہجویر مخدوم امم مرقد اوپیرسنجر را حرم
خیال رہے کہ جہاں بزرگوں کے قدم پڑجائیں وہ جگہ تاقیامت متبرک ہوجاتی ہے۔اب قباءمیں انصارنہیں لیکن اس کی شرافت وہی ہے
بگفتا من گل ناچیز بودم ولیکن مدتے باگل نشستم
|
696 -[8] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَى اللَّهِ مَسَاجِدُهَا وَأَبْغَضُ الْبِلَاد إِلَى الله أسواقها» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے آبادیوں میں رب کو پیاری جگہ مسجدیں ہیں اور بدترین جگہ وہاں کے بازارہیں ۱؎(مسلم) |
۱؎ کیونکہ مسجدوں میں اکثر ذکر اﷲ کے لیےحاضری ہوتی ہے اوربازاروں میں اکثرجھوٹ،فریب،غیبت وغیرہ،اگرچہ کبھی مسجدوں میں بھی جوتی چور اوربازاروں میں بھی اولیاءاﷲ چلے جاتے ہیں اسی لیےفرمایا گیا کہ تم ان لوگوں میں سے ہونا کہ جن کا جسم بازار میں اور دل مسجد میں ہے،ان میں سے نہ ہوجن کاجسم مسجد میں اور دل بازارمیں ہو۔خیال رہے کہ یہاں شہروں سے مراد عام شہر ہیں۔مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ ان سے علیحدہ ہیں۔وہاں کے تو گلی کوچے بازار وغیرہ سب خداکو پیارے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ ہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیۡنِ"اورفرماتا ہے:"لَاۤ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ"۔کیوں نہ ہو کہ یہ محبوب کی نگریاں ہیں ؎
کھائی قرآن نے خاک گزر کی قسم اس کف پاءکی حرمت پہ لاکھوں سلام
|
697 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» |
روایت ہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اﷲ کے لیےمسجدبنائے گا اﷲ اس کے لیئےجنت میں گھر بنائے گا ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی مسجدبنانے والے کے لئےجنت میں ایسا گھربنایا جائے گا جووہاں دوسرے مکانوں سے ایسا افضل ہوگاجیسے مسجددنیا کے دوسروں گھروں سے،ورنہ جنت کے گھروں کو یہاں کی عمارات سے کیا نسبت۔خیال رہے کہ پوری مسجد بنانا اورتعمیرمسجدمیں چندہ دینا دونوں کے لئےیہی بشارت ہے بشرطیکہ ریاءکے لئےنہ ہو اﷲ کے لئےہو،اسی لئےعلماءمسجد پراپنا نام لکھنے کو منع کرتے ہیں کہ اس میں ریاء کا شائبہ ہے،ہاں اگرطلب دعا کے لئےہوتو حرج نہیں۔(مرقاۃ)اسی حدیث کی بناء پرصحابہ کرام اوراسلامی بادشاہوں نے اپنی یادگاروں میں مسجدیں چھوڑیں،مسجدبڑی ہویاچھوٹی،کچی ہویاپکی ثواب بقدر اخلاص ہے۔
|
698 -[10] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ نُزُلَهُ مِنَ الْجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جوشخص صبح یا شام مسجدکوجائے جب کبھی صبح یا شام جائیگا اﷲ اس کے لیئےجنت کی مہمانی کا سامان بنائیگا ۱؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع