دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

رمضان    ۸ھ ؁میں ہوا ہم تینوں حضور انور کے ساتھ ہی مکہ آئے تب مجھ سے حضورعلیہ السلام نے چابی منگائی حضرت عباس  رضی اللہ  عنہ نے چاہا کہ چابی مجھے دے دی جائے،میں ڈر کی وجہ سے چابی مانگ نہ سکا،مجھے وہ واقعہ یادتھا اور میں سمجھتا تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ  وسلم  کے چچا کے مقابلہ میں مجھ غیرکی کیا حیثیت ہے مگر کرم خسروانہ کے قربان،فرمایا:اے عبا س! اگر  تم اللہ اور رسول  پر ایمان لائے ہو تو چابی مجھے دو،چابی لے کر فرمایا:عثمان کہاں ہیں ؟ میں بولا حضور حاضر،فرمایا  لو یہ چابیاں ہمیشہ تم میں رہے گی اس بنا پر یہ آیت اتری:"اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُکُمْ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا"پھر زندگی بھر یہ چابی عثمان کے پاس رہی،وفات کے وقت انہوں نے اپنے بھائی شیبہ ابن عثمان کو عطاکی۔

692 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَام»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ  وسلم  نے کہ میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں میں ہزارنمازوں سے بہترہے سوائے مسجدحرام کے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎  یعنی مسجدنبوی کی ایک نماز سوائے کعبۃ اﷲ کے باقی تمام جہاں کی مسجدوں کی ہزارنمازوں سے بہتر ہے۔خیال رہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ  وسلم کی مسجد صرف وہی نہیں ہے جوحضور علیہ السلام کے زمانہ میں تھی بلکہ بعدمیں جو اس میں زیادتیاں کی گئیں وہ سب حضورعلیہ السلام کی مسجد ہی کہلائیں گی اور اس کے ہرحصہ میں نماز پنجگانہ کا یہی درجہ ہوگا اگرچہ اس حصہ میں جو زمانۂ نبوی میں مسجدنہ تھا۔خصوصًا جنت کی کیاری میں نمازافضل ہے،نیز جس قدر روضۂ اطہر سے قرب زیادہ ہوگا اسی قدر ثواب زیادہ کیونکہ حضور علیہ السلام کے قرب ہی کی تو ساری بہارہے۔خیال رہے کہ مسجدنبوی کی نماز ثواب میں بیت اﷲ شریف کی نماز سے اگرچہ کم ہو مگر درجہ اورتقرّب میں وہاں کی نماز سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہاں کعبہ سے قرب ہے اوریہاں ان سے قرب ہے جنہوں نے کعبہ کوقبلہ بنادیا۔اسی لئےفتح مکہ کے بعدبھی مہاجرین وانصارمدینہ ہی میں رہے اوریہیں کی نمازوں کو دل وجان سے قبول کیا۔مرقاۃ نے فرمایا کہ صرف نماز کے لیےزیادتی نہیں ہے بلکہ مدینہ کی ہرعبادت کا یہی حال ہے۔قاضی عیاض،ملا علی قاری،شامی وغیرہم فرماتے ہیں کہ حضورانورصلی اللہ علیہ  وسلم  کی قبر کا اندرونی حصہ جو جسم اطہر سے مس ہے وہ کعبہ معظمہ وعرش اعظم سے بھی افضل ہے۔

693 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَمَسْجِدِي هَذَا "

روایت ہے حضرت ابوسعیدخدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ  وسلم  نے کہ تین مسجدوں کے سوا کسی طرف کجاوے نہ باندھیں جائیں ایک مسجد حرام،ایک مسجد اقصٰی اورایک میری یہ مسجد ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎  یعنی سواءان مسجدوں کے کسی اورمسجد کی طرف اس لیےسفرکرکے جانا کہ وہاں نماز کا ثواب زیادہ ہے ممنوع ہے،جیسے بعض لوگ جمعہ پڑھنے بدایوں سے دہلی جاتے تھے تاکہ وہاں کی جامع مسجد میں ثواب زیادہ ملے یہ غلط ہے،ہر جگہ کی مسجدیں ثواب میں برابر ہیں۔اس توجیہ پرحدیث بالکل واضح ہے۔وہابی حضرات نے اسی کے معنی یہ سمجھے کہ سواء ان تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف سفر ہی حرام ہے۔لہذا عرس،زیارت قبوروغیرہ کے لئےسفرحرام۔اگر یہ مطلب ہوتو پھرتجارت،علاج،دوستوں کی ملاقات،علم دین سیکھنے وغیرہ تمام کاموں کے لیےسفر حرام ہوں گے اور ریلوے کا محکمہ معطل ہوکررہ جائے گا اوریہ حدیث قرآن کے خلاف ہی ہوگی۔اور دیگر

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن