30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مل جاتی ہے،لہذا جونمازجمعہ کی اَلتَّحِیَّاتُ میں مل جائے وہ جمعہ پڑھے۔تیسرے یہ کہ جس رکعت میں مقتدی ملے وہ تعداد کے لحاظ سے رکعت اول ہے اور قرأت کے لحاظ سے رکعت آخری۔
۳؎ یعنی جب سے وہ نماز کے ارادے سے گھر سے چلا اسے نماز کا ثواب مل رہا ہے پھرجلدی کیوں کرتا ہے،کیوں گرتا اورچوٹ کھاتا ہے،اطمینان سے آئے جو پائے اس کو ادا کرے۔خیال رہے کہ اگرتکبیراولٰی یارکوع پانے کے لئے قدرے تیزی سے آئے مگر نہ اتنی کہ چوٹ لگنے گرنے کا اندیشہ ہوتومضائقہ نہیں جیساکہ فارو ق اعظم کا عمل پہلے بیان ہوا۔
|
687 -[8] عَن زيد بن أسلم أَنه قَالَ: عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِطَرِيقِ مَكَّةَ وَوَكَّلَ بِلَالًا أَنْ يُوقِظَهُمْ لِلصَّلَاةِ فَرَقَدَ بِلَالٌ وَرَقَدُوا حَتَّى اسْتَيْقَظُوا وَقَدْ طَلَعَتْ عَلَيْهِمُ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ الْقَوْمُ وَقَدْ فَزِعُوا فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْكَبُوا حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْ ذَلِكَ الْوَادِي وَقَالَ: «إِنَّ هَذَا وَادٍ بِهِ شَيْطَانٌ» . فَرَكِبُوا حَتَّى خَرَجُوا مِنْ ذَلِكَ الْوَادِي ثُمَّ أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْزِلُوا وَأَنْ يَتَوَضَّئُوا وَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يُنَادِيَ لِلصَّلَاةِ أَوْ يُقِيمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِم وَقَدْ رَأَى مِنْ فَزَعِهِمْ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَنَا وَلَوْ شَاءَ لَرَدَّهَا إِلَيْنَا فِي حِينٍ غَيْرِ هَذَا فَإِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ عَنِ الصَّلَاةِ أَوْ نَسِيَهَا ثُمَّ فَزِعَ إِلَيْهَا فَلْيُصَلِّهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا» ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَقَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ أَتَى بِلَالًا وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فأضجعه فَلم يَزَلْ يُهَدِّئُهُ كَمَا يُهَدَّأُ الصَّبِيُّ حَتَّى نَامَ» ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَخْبَرَ بِلَالٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الَّذِي أَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. رَوَاهُ مَالك مُرْسلايييييي
|
روایت ہے حضرت زید ابن اسلم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّے کے رستے میں۲؎ نزول فرمایا اورحضرت بلال کو اس لیئے مقرر کیا کہ انہیں نماز کے لیئے جگادیں تب حضرت بلال اورسب حضرات سوگئے ۳؎ اورجب جاگے جب کہ ان پرسورج چمک رہا تھاقوم گھبرائی ہوئی جاگی انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سوارہوجائیں حتی کہ دور اس جنگل سے نکل جائیں اورفرمایا کہ اس جنگل میں شیطان ہے ۴؎ لوگ سوار ہوئے حتی کہ اس جنگل سے نکل گئے پھرحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اتریں اور وضوکریں اورحضرت بلال کو حکم دیاکہ نماز کی تکبیریااذان کہیں ۵؎ پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نمازپڑھائی ۶؎ پھر فارغ ہوئے ان کی گھبراہٹ دیکھی تو فرمایا اے لوگو! اﷲ نے ہماری روحیں قبض فرمالی تھیں اگرچاہتا اس کے علاوہ اور وقت انہیں واپس کرتا ۷؎ جب تم میں سے کوئی نماز سے سوجائے یا اسے بھول جائے پھرگھبرا کر اس کی طرف آئے تو اسے ویسے ہی پڑھے جیسے اس کے وقت میں پڑھتا تھا۸؎ پھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرصدیق کی طرف توجہ فرمائی فرمایا کہ شیطان بلال کے پاس آیا جب وہ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے انہیں لٹادیا ۹؎ پھر انہیں تھپکورتا رہا جیسے بچہ تھپکوراجاتاہے حتی کہ وہ سو گئے پھرنبی کریم روف ورحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو بلایا تو حضرت بلال نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح خبردی جیسے حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرصدیق کو خبردی تھی۱۰؎ ابوبکر صدیق بولے میں گواہی دیتا ہوں آپ سچے رسول ہیں ۱۱؎(صلی اللہ علیہ وسلم)۔(مالک) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع