دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

۷؎  یعنی جس حکمت والے رب نے آپ کو اس وقت جاگنے نہ دیا اسی نے مجھے سلادیا،اس کلام میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے"اَللہُ یَتَوَفَّی الْاَنۡفُسَ حِیۡنَ مَوْتِہَا وَ الَّتِیۡ لَمْ تَمُتْ فِیۡ مَنَامِہَاسبحان اﷲ! کیا مبارک جواب ہے یعنی ہمارا یہ سوتا رہ جانا شیطانی یانفسانی نہیں بلکہ رحمانی ہے جس میں مصلحت ایمانی و اسلامی ہے۔

۸؎  یعنی اس جنگل سے چلو نماز آگے پڑھیں گے کیونکہ ابھی سورج طلوع ہورہا تھا نماز جائز نہ تھی کچھ دور جانے میں قدرے سفربھی طے ہوجائے گا اوروقت کراہت بھی نکل جائے گا،عرب میں ٹھنڈے وقت سفر کرتے ہیں۔خیال رہے کہ آفتاب چمکنے کے بیس منٹ بعدنمازجائز ہوتی ہے۔یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ سورج نکلتے وقت نہ فرض نماز جائز نہ نفل۔امام شافعی کے ہاں اس وقت فجرکی قضاءجائزہے۔

۹؎ یعنی بے اختیاری حالت میں نمازقضاءہوجانے پر گناہ نہیں۔خیال رہے کہ یہاں نماز کی اذان بھی کہی گئی اور تکبیربھی سنتیں بھی پڑھی گئیں اورجماعت سے نمازبھی،لہذا اس حدیث سے بہت سے فقہی مسائل حل ہوئے۔

685 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خرجت "

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم  صلی اللہ علیہ  وسلم  نے جب نمازکی تکبیرکہی جائے تو نہ کھڑے ہو حتی کہ مجھے نکلتے دیکھ لو ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی تکبیرکے وقت صف میں پہلے سے نہ کھڑے ہوجاؤ بلکہ جب مجھے حجرے شریف سے نکلتے دیکھو تب کھڑے ہوتاکہ نمازکے قیام کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ  وسلم  کے لیے قیام تعظیمی بھی ہوجائے،حضور "حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ"پرحجرے سے باہرجلوہ گرہوتے تھے۔اب بھی سنت یہی ہے کہ مقتدی صف میں بیٹھ کرتکبیر سنے"حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ"پرکھڑے ہوں۔اس سےمعلوم ہوا کہ امام کی غیرموجودگی میں تکبیرجائزہے جب کہ علامات سے معلوم ہوجائے کہ امام تشریف لانے والے ہیں۔اس کی بحث قریب میں گزرچکی ہے۔

686 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُقِيمَت الصَّلَاة فَلَا تأتوها تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فاتكم فَأتمُّوا»وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ يَعْمِدُ إِلَى الصَّلَاةِ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ» وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِ

روایت ہے ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ  وسلم  نے کہ جب نمازکی تکبیرکہی جائے تو دوڑتے نہ آؤ بلکہ چلتے ہوئے اطمینان کے ساتھ آؤ ۱؎  جوپالو وہ پڑھ لوجورہ جائے پوری کرلو۲؎(مسلم،بخاری)مسلم کی روایت میں ہے کیونکہ جب کوئی نماز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ نمازمیں ہوتا ہے۳؎ 

یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔

۱؎  یعنی جماعت کے لئے گھبرا کردوڑتے نہ آؤ کہ اس میں گرجانے چوٹ کھانے کا اندیشہ ہے۔خیال رہے کہ رب نے جو فرمایا"فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللہِ"وہاں سعی سے مراد دوڑنا نہیں بلکہ نماز جمعہ کی تیاری کرناہے،لہذا آیت وحدیث میں مخالفت نہیں۔

۲؎   اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جماعت میں شامل ہونے کے لئے سکون سے آنا مستحب ہے،دوڑنا مستحب کے خلاف ہے حرام نہیں،لہذا فاروق اعظم کا ایک دفعہ دوڑ کر رکوع میں شامل ہوجانا ناجائز نہ تھا۔دوسرے یہ کہ آخری جزو مل جانے سے جماعت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن