30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سال کی اذان پروعدۂ جنت فرمایا گیاہو،پھر رحمت کو وسیع فرماتے ہوئے سات سال کی اذان پروعدہ ہوگیا۔اس صورت میں یہ حدیث پہلی سے منسوخ ہے۔
۲؎ یعنی تکبیر کا ثواب اذان سے آدھا ہے کیونکہ تکبیر صرف مسجد والوں کے لیے ہے اور اذان سارے لوگوں کے لیے،نیزتکبیرمیں آسانی ہے،اذان میں مشقت اورثواب بقدرمشقت ملتا ہے۔مرقاۃ نے فرمایا کہ یہ ثواب بارہ سال کے مؤذن کے لئے خاص نہیں بلکہ جوبھی اخلاص سے اذان کہے ان شاءاﷲ یہ ثواب پائے گا،بلکہ اذان واقامت کا جواب دینے والابھی ان شاءاﷲ اس اجر کامستحق ہوگاجیسا کہ گزشتہ احادیث سے معلوم ہوا۔
|
679 -[26] وَعَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِالدُّعَاءِ عِنْدَ أَذَانِ الْمغرب. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ہم کومغرب کی اذان کے وقت دعا کا حکم دیاجاتاتھا ۱؎ (بیہقی دعوات کبیر) |
۱؎ غالبًا اس سے وہی دعا مرادہے جو حضرت ام سلمہ کی روایت میں گزر چکی۔خیال رہے کہ بعض لوگ اذان کی دعا میں ہاتھ اٹھانے کو منع کرتے ہیں مگر یہ درست نہیں جب تک کہ ممانعت قرآن و حدیث سے ثابت نہ ہو کسی کو منع کرنے کا کیا حق ہے،ہردعامیں ہاتھ اٹھاناسنت سے ثابت ہے،جیسا کہ دعاؤں کے باب میں ان شاءاﷲ آئے گا،سواءنمازکی دعاؤں کے کہ وہاں نماز میں مشغولیت کی وجہ سے ہاتھ نہیں اٹھا سکتے۔ملا علی قاری نے مرقاۃ میں کھانے کے بعدکی دعا میں ہاتھ اٹھانے کومنع فرمایا مگر اسی کی وجہ یہ بتائی کہ شاید بعض لوگ ابھی کھاناکھارہے ہوں تو انہیں شرمندگی ہوگی کہ سب کھا چکے ہم ابھی تک کھارہے ہیں،یہ بھی ان کی رائے ہے اور اس کی وجہ یہ ہے نہ کہ ممانعت شرعیہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع