30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی "حی علی الصلوۃ" اور فلاح پرصرف لاحول شریف پڑھی یہ کلمات نہ دہرائے،بعض علماءکایہی عمل ہے مگرزیادہ قوی یہ ہے کہ یہ کلمات بھی دہرائے اور لاحول شریف بھی پڑھ لے،جیسا کہ پہلے عرض کیاجاچکا۔ظاہریہ ہے کہ آپ نے "حی علی الصلوۃ"پر بھی پوری لاحول ہی پڑھی ہوگی مگر راوی نے اختصارکیا۔
|
676 -[23] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي فَلَمَّا سَكَتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ مِثْلَ هَذَا يَقِينا دخل الْجنَّة» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ حضرت بلال اذان دینے کھڑے ہوئے جب خاموش ہوئے تو حضرت محمدمصطفی نے فرمایا جویقین سے اس طرح کہاکرے جو اس نے کہا جنت میں داخل ہوگا ۱؎ (نسائی) |
۱؎ ظاہریہ ہے کہ اس سے اذان کا جواب مرادہے،یعنی ایمان لاکریہ کلمات دہرائے توجنتی ہے۔اگر کافرمذاق کے طورپراذان کی نقل کرے تو اس کے کفر میں اور اضافہ ہوگا۔اس میں اشارۃً بتایا گیا کہ جب اذان دہرانے کا یہ ثواب ہے تو اذان دینے پرکیا ثواب ہوگا۔
|
677 -[24] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يَتَشَهَّدُ قَالَ: «وَأَنَا وَأَنَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو شہادتین کہتے سنتے تو فرماتے اور میں بھی اور میں بھی ۱؎(ابوداؤد) |
۱؎ یعنی میں بھی اﷲ کی توحید اوراپنی رسالت پرگواہی دیتا ہوں۔خیال رہے کہ ہم توحیدورسالت کی گواہی سن کر دے رہے ہیں اورحضوردیکھ کر کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے رب کی ذا ت وصفات اورسارے عالم غیب کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے،نیزحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا علم ہمارے لیے علم حضوری کیونکہ رسالت آپ کا اپنا وصف ہے،نیزحضور کا کلمہ یہ بھی تھا"اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ"اوریہ بھی کہ "اَشْھَدُاَنِّیْ رَسُوْلُ اﷲِ"میں اﷲ کا رسول ہوں،کبھی اس طرح کلمہ پڑھتے تھے،کبھی اس طرح۔اگر ہم کہہ دیں کہ میں رسول اﷲ ہوں تو کافرہوجائیں۔ایک کلمہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کلمۂ ایمان ہے اور ہمارے لیے کفر۔التحیات میں بھی ہم پڑھتے ہیں"اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ"حضورصلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایسےبھی پڑھتے تھے،اورکبھی "السلام علی"۔(ازمرقاۃ)
|
678 -[25] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَذَّنَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَكُتِبَ لَهُ بِتَأْذِينِهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ سِتُّونَ حَسَنَةً وَلِكُلِّ إِقَامَة ثَلَاثُونَ حَسَنَة» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہی حضرت ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوبارہ سال اذان دے اس کے لئے جنت واجب ہوگی ۱؎ اورہردن اس کی اذان کے عوض ساٹھ نیکیاں اورتکبیر کے عوض تیس نیکیان لکھی جائیں گی۲؎ (ابن ماجہ) |
۱؎ پہلے سات سال اذان دینے پر آگ سے نجات کا وعدہ فرمایا گیاتھا،یہاں بارہ سال پر جنت کا وعدہ ہے کیونکہ جیسا اذان میں اخلاص ویسا ہی اس پر اجر،حضرت بلال کو ایک اذان پر وہ ثواب ملے گا جو دنیا بھر کے مؤذنوں کو عمربھرکی اذانوں پر نہ ملے۔اورہوسکتاہے کہ پہلے بارہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع