30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ آپ مشہورصحابی ہیں،ثقفی ہیں،حضورنے آپ کو طائف کا حاکم بنایا اورشروع خلافت فاروقی تک وہیں کے حاکم رہے،پھرعمرفاروق نے وہاں سے معزول کرکے عمان اوربحرین کا گورنر بنایا۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ امام قائم کرنے اورمعزول کرنے کا حق سلطان اسلام کوبھی ہے اور اس کا مقرر کردہ امام قوم کے معزول کرنے سے علیحدہ نہیں ہوسکتا،دیکھو کتب فقہ۔
۳؎ یعنی یہ سمجھ کرنمازپڑھاؤ کہ میرے مقتدی کمزور اوربیمار بھی ہیں،ہلکی نمازپڑھاؤ۔
۴؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مؤذن رکھنے اورمعزول کرنے کا حق امام کوہے۔دوسرے یہ کہ اذان پراجرت لینا جائزمگر نہ لینابہتر اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں اجرت کو حرام نہیں کہا بلکہ فرمایا ڈھونڈ کرکوئی للہ اذان دینے والا رکھو۔خیال رہے کہ اُس زمانہ میں دینی خدمات پر اجرت لینا اگر ممنوع بھی تھا تو اس وقت کے لحاظ سے تھا اب ممنوع نہیں،ورنہ سارے دینی کام بندہوجائیں گے۔دیکھو سوا عثمان غنی کے باقی تمام خلفاءنے خلافت پر اجرت لی،حالانکہ خلافت امامت کبریٰ ہے،نیزعمرفاروق نے اپنے زمانہ میں غازیوں اورحکّام کی تنخواہیں مقررکیں،حالانکہ جہادبھی عبادت ہے اورحاکم اسلام بننابھی۔
|
669 -[16] وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن أَقُول عِنْد أَذَان الْمغرب: «اللَّهُمَّ إِن هَذَا إِقْبَالُ لَيْلِكَ وَإِدْبَارُ نَهَارِكَ وَأَصْوَاتُ دُعَاتِكَ فَاغْفِرْ لِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ |
روایت ہے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہاسے فرماتی ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا کہ مغرب کی اذان کے وقت یہ کہہ لیاکروں ۱؎ اے اﷲ یہ تیری رات کے آنے اور تیرے دن کے جانے کا وقت اورتیرے بلانے والوں کی آواز یں ہیں تو مجھے بخش دے ۲؎ (ابوداؤد،بیہقی،دعوات کبیر) |
۱؎ یا اذان کے اوّل آوازسنتے ہی یا اذان کے بعد،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔
۲؎ چونکہ شام کا وقت بھی قبولیت کا وقت ہے اوراذان کاہونابھی،اس لئے خصوصیت سے اس قت کے لیے یہ دعا ارشادفرمائی گئی۔بلانے والے سے مرادمؤذنین ہیں،یعنی ان مؤذنوں کی ان آوازوں کی برکت سے مجھے بخش دے۔معلوم ہوا کہ دوسروں کی عبادت کے طفیل دعامانگناجائزہے،لہذا یہ کہہ سکتے ہیں خدایا اپنے حبیب کے سجدوں کے طفیل مجھے بخش دے۔
|
670 -[17] وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَوْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بِلَالًا أَخَذَ فِي الْإِقَامَةِ فَلَمَّا أَنْ قَالَ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقَامَهَا اللَّهُ وَأَدَامَهَا» وَقَالَ فِي سَائِر الْإِقَامَة: كنحو حَدِيث عمر رَضِي الله عَنهُ فِي الْأَذَان. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوامامہ سے یابعض صحابہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت بلال نے تکبیرکہنی شروع کی جب انہوں نے کہا قدقامت الصلوۃ توحضورانور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اﷲ اسے قائم دائم رکھے اورباقی تکبیر میں وہی فرمایا جوحضرت کی عمرکی اذان حدیث میں ذکرہوا ۱؎(ابوداؤد) |
۱؎ اس سے معلوم ہو اکہ اذان کی طرح تکبیرکابھی جواب دیاجائے اور"قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃ" پر یہ دعامانگی جائے۔خیال رہے کہ راوی کا یہ کہنا کہ بعض صحابہ نے فرمایا حدیث کو ضعیف نہیں کردیتا کیونکہ سارے صحابہ عادل ہیں کوئی فاسق نہیں۔
|
671 -[18] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُرَدُّ الدُّعَاءُ بَيْنَ الْأَذَان وَالْإِقَامَة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان اورتکبیرکے درمیان کی دعا ردنہیں ہوتی ۱؎(ابوداؤد،ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع