دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

دینے والا"حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃ،حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ"بھی کہے اور لاحول بھی پڑھے تاکہ اس حدیث پربھی عمل ہوجائے اورگزشتہ پربھی۔اس وقت لاحول پڑھنا اس لیے ہے تاکہ شیطان دور رہے اورنمازکی حاضری آسان ہو۔

۲؎   ظاہر یہ ہے کہ مِن قلبہٖ کاتعلق سارے جواب سے ہے،یعنی اذان کا پورا جواب سچے دل سے دے کیونکہ بغیراخلاص کوئی عبادت قبول نہیں۔اگر جنت سے وہی جنت مراد ہے جو قیامت کے بعد ملے گی تو دَخَلَ بمعنی مستقبل ہے اوراگر جنت سے مراد دنیا کی جنت ہے،یعنی عبادات کی توفیق،اچھی زندگی تو دَخَلَ ماضی کے معنی میں ہے،رب فرماتا ہے:"وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ"یعنی اﷲ سے ڈرنے والے کے لئے دو جنتیں ہیں:ایک دنیا میں،ایک آخرت میں۔(مرقاۃ)

659 -[6]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت جابرسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ  علیہ  وسلم  نے کہ جو اذان سنتے وقت یہ کہاکرے یا اﷲ اس عام دعوت اور کامل نماز کے رب محمدمصطفی کو وسیلہ اور بزرگی دے اور انہیں اس مقام محمود پرپہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ۱؎  تو اس کے لئے قیامت کے دن میری شفاعت واجب ہوگی ۲؎ (بخاری)

۱؎  خیال رہے کہ جنت میں حضورصلی اللہ  علیہ  وسلم  کے خاص مقام کا نام"وسیلہ"ہے اورقیامت میں حضورکے مقام کانام "مقام محمود"ہے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں حضورصلی اللہ  علیہ  وسلم  دولہا بنائے جائیں گے،سارے اولین و آخرین،کفار و مؤمن ین،انبیاء و مرسلین،بلکہ خود رب العالمین حضور کی ایسی تعریفیں کریں گے جو آج ہمارے خیال و وہم سے وراءہیں،وہ مقام نہ معلوم کیسا عظیم الشان ہے جس کا رب نے قرآن شریف میں اعلان فرمایا اورہم لوگوں کو ہراذان کے بعد اس کی دعا مانگنے کا حکم دیا گیا،اسی مقام پرحضورصلی اللہ  علیہ  وسلم  "شفاعت کبریٰ" فرمائیں گے اوریہیں  سے حضورصلی اللہ  علیہ  وسلم  کے ہاتھ پر"دروازۂ شفاعت"کھلے گا۔

۲؎  یعنی اس دعا کی برکت سے اسے ایمان پرخاتمہ نصیب ہوگا اوروہ میری شفاعت عامہ و خاصہ کامستحق ہوگا۔مرقاۃ نے فرمایا کہ اذان کے بعد دعابہت قبول ہوتی ہے،لہذا مصیبت زدہ کو چاہیئے کہ اس وقت دعا مانگا کرے اسی لیے مسلمان اس دعا کے ساتھ یہ بھی کہہ دیتے ہیں"وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَہٗ" خدایا ہمیں ان کی شفاعت نصیب کر۔

660 -[7]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغِيرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ وَكَانَ يَسْتَمِعُ الْأَذَانَ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى الْفِطْرَةِ» ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَرَجْتَ من النَّار» فنظروا فَإِذا هُوَ راعي معزى. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم  صلی اللہ  علیہ  وسلم  فجرطلوع ہونے پرحملہ کرتے تھے ۱؎  اذان پر کان لگاتے تھے اگراذان سن لیتے تو باز رہتے ورنہ حملہ کردیتے۲؎   ایک شخص کو کہتے سنا اﷲ اکبر اﷲ اکبرحضورانورصلی اللہ  علیہ  وسلم  نے فرمایا یہ فطرت پرہے پھر اس نے کہا اشھدان لا الہ الا اﷲ توحضورانورصلی اللہ  علیہ  وسلم نے فرمایا تو آگ سے نکل گیا صحابہ نے اسے دیکھا تو وہ بکریاں چرانے والا تھا ۳؎ (مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن