30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ آپ کا نام عبادہ،کنیت ابوالولیدہے،آپ نقیب الانصار ہیں،پہلی اور دوسری بیعت عقبہ میں شامل ہوئے،جمع قرآن کرنے والوں میں آپ بھی تھے،بدر اور تمام غزوات میں شریک رہے،عہدِ فاروقی میں شام کے قاضی رہے،حمّص مقام تھا،فلسطین کے مقام رملہ میں ۷۲ سال کی عمر پاکر ۳۴ھہجری میں وفات پائی۔
۲؎ عصابہ عصبہ سے بنا بمعنی مضبوطی۔اب دس سے چالیس تک کی جماعت کو عصابہ کہا جاتا ہے۔
۳؎ یہ بیعت تقویٰ ہے،یعنی آیندہ شرک،چوری،زنا وغیرہ نہ کرنا،ورنہ یہ جماعت صحابہ بیعت اسلام تو پہلے ہی کرچکی تھی۔آج کل جو مشائخ کے ہاتھ پر بیعت تقویٰ کی جاتی ہے اس کی اصل یہ حدیث ہےحضور نے صحابہ سے جہاد پربھی بیعت لی ہے۔
۴؎ چونکہ عرب میں یہ گناہ زیادہ مروج تھے،بلکہ زنا اور لڑکیوں کے زندہ دابنے پرفخر کیا کرتے تھے اس لئے حضور نے ان کی تاکیدی ممانعت فرمائی،چونکہ بہتان سن کر بھی لگایا جاتا ہے اور گڑھ کر بھی،گڑھا ہوا زیادہ جرم ہے اس لئے حضور نے ان کی تاکیدی ممانعت فرمائی۔بعض عورتیں دوسروں کا بچہ لے کر اپنے خاوند سےکہتی تھیں کہ یہ تیرا بچہ ہے جو میں نے جنا ہے۔اس فرمان میں اس جانب بھی اشارہ ہے تو سامنے سے مراد شرمگاہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ نسب بدلنا سخت جرم ہے۔
۵؎ نہ میری نہ علماء کی نہ حکام نہ ماں باپ نہ شیخ کی جو بھی اچھی بات کا حکم دے اس کی بات مانو۔خیال رہے کہ حضور جو بھی حکم دیں وہ اچھا ہے،اگر نماز چھوڑنے کا حکم دیں تو اس وقت نماز پڑھنا حرام ہوجاتی ہے۔حضور کے احکام کی اطاعت مطلقًا واجب ہے،حضور کے مشورہ اور رائے پرعمل بہتر ہے لازم نہیں۔یہاں معروف کی قید حضور کے لئے واقعی ہے اور دوسروں کے لئے احترازی کیونکہ بُری بات میں بادشاہ وغیرہ کسی کی اطاعت نہیں۔
۶؎ اس میں ارشارۃً فرمایا گیا کہ ان اطاعتوں کا بدلہ دنیا میں ہی لوگوں سے نہ چاہو،اخلاص اختیار کرو ان شاء اﷲ دنیا اور آخرت میں اجر پاؤ گے۔
۷؎کفر کے سوا کوئی اور جرم جس کی سزا شرعًا مقرر ہو جیسے زنا،چوری،شراب خوری یا مقرر نہ ہو تعزیر بھی ہو جیسے لواطت وغیرہ یا نہ ہو جیسے ترک نماز وغیرہ۔
۸؎ اکثر علماءفرماتے ہیں کہ حدود اورتعزیرات گناہ کا کفارہ بن جاتے ہیں جس کے بعد اس جرم کی سزا ان شاء اﷲ آخرت میں نہ ملے گی۔بعض نے فرمایا یہ سزائیں حق عبد کا کفارہ ہیں،حق اﷲ تو بہ سے ہی معاف ہوگا،رب فرماتا ہے:"وَمَنۡ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ" مگر حق یہ ہے کہ مجرم کا اپنے کو سزا کے لیے پیش کردینا ہی توبہ اور کفارہ ہے۔
۹؎ اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ کوئی شخص اپنے چھپے گناہ کو ظاہر نہ کرے حق عبد ضرور ادا کردے۔
۱۰؎ اس میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے:"اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ "یعنی کفر پر مرنے والی کی بخشش نہیں باقی تمام گنہگاروں کے لیے گنجائش ہے۔
|
19 -[18] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ فَقُلْنَ وَبِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرجل الحازم من إحداكن قُلْنَ وَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ قُلْنَ بَلَى قَالَ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَان عقلهَا أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تَصِلِّ وَلَمْ تَصُمْ قُلْنَ بَلَى قَالَ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا |
روایت ہے حضرت ابی سعید خدری سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقرعید یاعِید الفطرمیں عید گاہ۲؎تشریف لے گئے عورتوں کی جماعت پر گزرے۳؎ تو فرمایا کہ اے بیبیو!خوب خیرات کرو ۴؎ کیونکہ مجھے دکھایا گیا ہے ۵؎ کہ تم زیادہ دوزخ والی ہو،انہوں نے عرض کیا حضور یہ کیوں؟ فرمایا تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو ۶؎ خاوند کی ناشکری ۷؎ ہو تم سے بڑھ کر کوئی کم عقل دین پر کم عاقل عقلمند آدمی کی مت کاٹ دینے والی میں نے نہیں دیکھی۸؎عورتوں نے عرض کیاحضور ہمارے دین و عقل میں کمی کیونکر ہے۔فرمایا کہ کیا یہ نہیں ہے کہ عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے آدھی ہے ۹؎ عرض کیا ہاں فرمایا یہ عورت کے عقل کی کمی ہے فرمایا یہ درست نہیں کہ عور ت حیض میں روزہ نماز ادا نہیں کرسکتی عرض کیا ہاں فرمایا یہ اس کے دین کی کمی ہے۱۰؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع