30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت ۱؎
۱؎ اذان دینے کے فصائل بیشمار ہیں۔حق یہ ہے کہ اذان سے امامت افضل ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اذان نہ دی،جن روایات میں حضورکے اذان دینے کا ذکر ہے وہاں حکم اذان مراد ہے۔اذان کا جواب عملی بھی ہے اورقولی بھی،عملی جواب تو مسجدمیں حاضرہوجانا ہے،قولی جواب کلمات اذان کا دہراناہے۔صحیح یہ ہے کہ پہلی اذان سننے پردنیاوی باتوں سے خاموش ہوجانا اورجوابًا کلمات اذان اداکرنا واجب ہے۔ہاں کھانے والا،استنجا کرنے والا،علم دین پڑھانے والا اس حکم سے علیحدہ ہے۔
|
654 -[1] عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أعناقا يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اذان دینے والے لوگ قیامت کے دن لمبی گردنوں والے ہوں گے ۱؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی گردن فراز اورسربلند ہوں گے،یا سراٹھائے رب کی رحمت کے منتظر،یا بلند قامت ہوں گے کہ دور سے پہچان لئے جائیں گے۔یہ مطلب نہیں کہ ان کے جسم چھوٹے اورصرف گردنیں لمبی ہوں گی کہ یہ بد زیبی ہے۔بعض مفسرین نے اعناق کو ہمزہ کے زیر سے پڑھا ہے،بمعنی تیزرفتاری ولمبے قدم،یعنی مؤذن جنت کی طرف دوڑتے ہوئے لمبے قدم رکھتے ہوئے جائیں گے،دوسروں سے پہلے بہشت میں داخل ہوں گے۔
|
655 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «إِذا نُودي للصَّلَاة أدبر الشَّيْطَان وَله ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ فَإِذَا قَضَى النِّدَاءَ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ حَتَّى إِذَا قَضَى التَّثْوِيبَ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى يَظَلَّ الرجل لَا يدْرِي كم صلى» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب نماز کی اذان دی جاتی ہے ۱؎ تو شیطان گوزمارتابھاگتا ہے حتی کہ اذان نہ سنے۲؎ پھرجب اذان ختم ہوجاتی ہے تو آجاتا ہے حتی کہ جب نماز کی تثویب کہی جاتی ہے تو بھاگ جاتاہے۳؎ جب تثویب ختم ہوجاتی ہے تو آجاتا ہے تاکہ انسان کے دل میں وسوسے ڈالے کہتا ہے فلاں فلاں چیزیں یادکر۴؎ وہ چیزیں جو اسے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ آدمی نہیں جانتا کہ کتنی رکعت پڑھیں ۵؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ خواہ نمازمیں بلانے کے لیے دی جائے یاکسی اورمقصد کے لئے،جیسے بچے کے کان میں یابعددفن قبر پر وغیرہ۔لِلصَّلوٰۃ اس لیے فرمایا تاکہ کوئی اذان کے لغوی معنی نہ سمجھ جائے۔
۲؎ یہاں بھاگنے کے ظاہری معنی ہی مرادہیں اوراذان میں دفع شیطان کی تاثیر ہے اسی لیے طاعون پھیلنے پر اذان کہلواتے ہیں کہ یہ وباءجنات کے اثرسے ہے۔بچے کے کان میں اذان دیتے ہیں کہ اس کی پیدائش پر شیطان موجودہوتاہے جس کی مار سے بچہ روتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع