دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

650 -[10]

وَعَن عبد الله بن زيد بن عبد ربه قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلَاةِ طَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ فَقُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ قَالَ وَمَا تَصْنَعُ بِهِ فَقلت نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ فَقُلْتُ لَهُ بَلَى قَالَ فَقَالَ تَقُولَ اللَّهُ أَكْبَرُ إِلَى آخِرِهِ وَكَذَا الْإِقَامَةُ  فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ فَقَالَ: «إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٍّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْك» فَقُمْت مَعَ بِلَال فَجعلت ألقيه عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ قَالَ فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ وَيَقُول وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا أَرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلِلَّهِ الْحَمْدُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْإِقَامَةَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَكِنَّهُ لَمْ يُصَرح قصَّة الناقوس

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن زید ابن عبدربہ سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ  وسلم  نے ناقوس بنانے کاحکم دیناچاہا تاکہ جماعت نمازکے واسطے لوگوں کے لئےبجایاجائے۲؎  تو مجھے خواب میں ایک شخص دکھائی دیاجواپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے تھا میں نے کہا رب کے بندے کیا توناقوس بیچتاہے وہ بولا اس کا تم کیاکروگے میں نے کہا اس سے نماز کے لئےبلایا کریں گے ۳؎  وہ بولا کیا تمہیں اس سے اچھی چیز نہ بتا دوں۴؎  میں نے کہاہاں فرماتے ہیں وہ بولاکہو اﷲ اکبر آخر تک اور اس طرح تکبیر۵؎  جب صبح ہوئی میں حضور انورصلی اللہ علیہ  وسلم  کی خدمت اقدس میں حاضرہوا جو کچھ دیکھا تھاحضور سے عر ض کیا فرمایا بفضلہ تعالٰی یہ خواب سچی ہے ۶؎ تم بلال کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ جو کچھ خواب میں دیکھا ہے انہیں بتاتے جاؤ وہ اذان دیں کیونکہ وہ تم سے بلند آواز ہیں۷؎ میں حضرت بلال کے ساتھ کھڑا ہوگیا میں انہیں بتانے لگا وہ اذان دینے لگے۸؎  فرماتے ہیں یہ اذان حضرت عمرنے اپنے گھر میں سنی تو چادرگھسیٹتے ہوئے نکلے عرض کرنے لگے یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ  وسلم  اس کی قسم جس نے تمہیں حق دے کربھیجا ہے میں نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے جیسا کہ انہوں نے ۹؎  حضور انور صلی اللہ علیہ  وسلم  نے فرمایا اﷲ کاشکر ہے(ابوداؤد،دارمی،ابن ماجہ)مگر ابن ماجہ نے تکبیر کا ذکر نہ کیا ترمذی نے فرمایا یہ حدیث صحیح ہے لیکن انہوں نے ناقوس کا واقعہ صراحتًا بیان نہ کیا۱۰؎

۱؎   آپ انصاری ہیں،خزرجی ہیں،دوسری بیعت عقبہ میں ستر انصاریوں میں آپ بھی تھے،بدر اورتمام غزووں میں حضور انور کے ساتھ رہے،آپ خودبھی صحابی ہیں اور والدین بھی صحابی،آپ کا لقب صاحب اذان ہے کیونکہ انہی کی خواب پر اسلام میں اذان جاری ہوئی،    اھ؁ میں آپ نے یہ خواب دیکھا اور      ۲ھ ؁میں آپ کی وفات ہوئی،۶۴سال کی عمرشریف ہوئی،مدینہ پاک میں مدفون ہوئے۔

۲؎   یہاں امر سے بمعنی ارادۂ امر ہے،جیسا کہ مرقاۃ میں معلوم ہوتا ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ  وسلم  کا ارادۂ مبارک ناقوس بجانے کا ہوچکا تھا۔غالب یہ ہے کہ یہ عارضی ارادہ ہوگا کہ جب تک اس بارے میں وحی نہ آئے تب تک ناقوس سے کام لیا جائے،ورنہ حضورمعراج کی رات ملائکہ سے اذان سن چکے تھے جیسا کہ اسی جگہ مرقاۃ میں ہے۔

۳؎   اس سے معلوم ہوا کہ انسان بیداری میں جس خیال میں رہتا ہے خواب میں بھی وہی کرتا اورکہتاہے انہیں خواب میں ناقوس دیکھ کر نمازیادآئی۔صوفیائے فرماتے ہیں کہ جس خیال میں جیو گے اسی خیال میں مرو گے اورمحشرمیں اٹھو گے۔خیال رہے کہ رب تعالٰی نے دوسرے احکام کی طرح حضور پر اذان کی وحی نہ بھیجی بلکہ صحابہ کے خواب کو درمیان میں رکھا،تاکہ لوگوں کو ان حضرات کی عظمت کا پتا لگے اورلوگ جانیں کہ جب ان بزرگوں کی خوابیں ایسی ہیں تو ان کی بیداری کے احکام کیسے پاکیزہ ہوں گے۔دیکھو اذان جیسا اسلامی شعارصحابہ کے خواب کا نتیجہ ہے ان کی نیند پرہم جیسے لاکھوں کی بیداریاں قربان۔

۴؎  جس میں یہود ونصاریٰ سے مشابہت بھی نہ ہو اورنمازکے اعلان کے ساتھ اﷲ کا ذکر اورنماز کی ترغیب بھی ہوجائے،بے معنی آوازبھی نہ ہو۔

۵؎   یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ اذان میں ترجیع نہیں اورتکبیر کے کلمات ایک ایک نہیں کیونکہ اذان کی اصل یہ خواب ہے،نیز اسی پرصحابہ کا عمل رہا۔خیال رہے کہ اقامت میں"قَدْ قَامَتِ الصَّلوٰۃُ" کا بڑھانا اورفجرکی اذان میں"اَلصَّلوٰۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ"کی زیادتی حضور کے اجتہادی حکم سے ہوئی۔

۶؎  کیونکہ ہم نے بھی یہ اذان معراج میں فرشتوں کی زبانی سنی تھی۔اے عبداﷲ رب نے تمہیں خواب میں دکھاکرہمیں اشارۃً فرمایا کہ اے حبیب!وہی فرشتوں والی اذان کیوں نہیں کہلواتے۔خیال رہے کہ یہاں ان شاءاﷲ برکت کے لئےنہ کہ شک کے لئے،جیسے رب نے فرمایا:"لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنۡ شَآءَاللہُ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مؤمن کے خواب خصوصًا جب کہ نبوت کے ذریعہ اس کی تصدیق ہوجائے وحی کے حکم میں ہیں،پھرنبی کی خواب کا کیا پوچھنا،ابراہیم علیہ السلام خواب میں دیکھ کر اپنے فرزند کو ذبح کرنے پرتیار ہوگئے۔خواب تین قسم کے ہوتے ہیں:نفس کے خیالات،شیطانی وسوسے،ربانی الہام۔پہلے دوخواب اضغاث احلام کہلاتے ہیں اورجھوٹے ہوتے ہیں۔تیسرے خواب رویاءصادقہ۔خواب کی پوری تحقیق ان شاء اﷲ "کتاب الرؤیا" میں کی جائے گی۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن