دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

۹؎  اس سے معلوم ہوا کہ حضور پر ایمان لائے بغیر اﷲ تعالٰی پر ایمان غیرممکن ہیں،ایمان باﷲکی تفسیر میں رسالت کا ذکر بھی ہوا۔ شہادۃسے مراد دل کی گواہی ہے،یعنی ماننا و قبول کرنا ورنہ زبانی اقرار ایمان کا جزو نہیں،بلکہ احکام اسلامی جاری ہونے کی شرط ہے۔

۱۰؎  نماز،روزہ وغیرہ ایمان کی تفسیر نہیں بلکہ ایمان پرمعطوف ہے،یعنی انہیں ایمان کا بھی حکم دیا اور نماز روزے وغیرہ کا بھی۔لہذا اقام وغیرہ جر سے پڑھنا چاہیئے،چونکہ ایمان اعمال پر مقدم ہے،اس لئے ایمان کے بعد ان کا ذکر ہوا،چونکہ ابھی حج نہ ہوا تھا اس لئے اس کا ذکر نہیں،حج      ۹ھ؁ میں فرض ہوا ہے۔

۱۱؎  چونکہ اس وقت جہاد فرض ہوچکا تھا اور یہ لوگ اہل جہاد سے تھے،اسی لئے انہیں جہاد کے احکام ارشاد فرمائے کہ اگر تم کفار مضر سے جہاد کرو تو جو غنیمت کامال حاصل ہوا اس کا پانچواں حصہ یہاں بھیج دیا کرو،چار حصے مجاہدین میں تقسیم کیا کرو،رب فرماتاہے: "وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمۡ "الخ۔

۱۲؎  یہ شراب کے چاربرتن ہیں:حِنتُم،شراب کی چھوٹی گھڑی،رُبّا کھکل کیا ہوا پکا کدُو جو جگ کی طرح استعمال کیا جاتاتھا،نقیر درخت کی جڑجسے کھکل کرکے اس میں شراب رکھتے تھے،مزفت شراب پینے کا پیالہ۔چونکہ اس وقت شراب نئی نئی حرام ہوئی تھی،اگر یہ برتن استعمال ہوتے رہتے توممکن تھا کہ انہیں چھوٹی ہوئی شراب پھر یاد آجاتی،اس لئے ان کا استعمال بھی حرام کردیا گیا،پھر کچھ عرصہ بعد یہ حرمت منسوخ ہوگئی جیسا کہ دوسری روایت میں ہے۔

۱۳؎ یعنی تم عالم و عامل بھی بنو اور مبلغ بھی،تبلیغ کے لیے کامل عالم ہونا شرط نہیں،جو صحیح مسئلہ ہو اس کی تبلیغ کرے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرام سے بچانے کے لیے اسباب حرام روکنا ضروری ہیں،نزلہ روکو تاکہ بخار سے بچو،چوہے فناکرو تاکہ طاعون نہ پھیلے،گانا اور بیہودگی روکو تاکہ زنا بند ہو۔

18 -[17] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: " بَايَعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ وَلَا تَعْصُوا فِي مَعْرُوفٍ فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ إِلَى اللَّهِ: إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ " فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِك

روایت ہے عبادہ ابن صامت سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ فرمایانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالانکہ آپ کے آس پاس صحابہ کی جماعت ۲؎ تھی کہ مجھ سے اس پر بیعت کرو۳؎کہ اﷲ کےساتھ کسی کو شریک نہ کرنا،نہ چوری کرنا اور نہ زنا،نہ اپنی اولاد کو قتل کرنا،نہ اپنے سامنے گھڑا ہوا بہتان لگانا ۴؎  اور کسی اچھی بات میں نافرمانی نہ کرنا ۵؎  تم میں سے جو وفائے عہد کرے گا اس کا ثواب اﷲ کے ذمہ کرم پر ہے۶؎ اور جوان میں سے کچھ۷؎ کر بیٹھے اور دنیا میں سزا پالے تو وہ سزا کفارہ ہے ۸؎  اور جو ان میں سے کچھ کرلے،پھر رب اُس کی پردہ پوشی کرے۹؎  تو وہ اﷲ کے سپرد ہے۔اگر چاہے معافی دے دے چاہے سزا دے۱۰؎  لہذا ہم نے اس پر آپ سے بیعت کی۔(مسلم، بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن