30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
637 -[14] وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي صَلَاةً أَشَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا فَنَزَلَتْ (حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى)وَقَالَ إِنَّ قَبْلَهَا صَلَاتَيْنِ وَبَعْدَهَا صَلَاتَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد |
ر وایت ہے زیدابن ثابت سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نمازظہردوپہری میں پڑھتے تھے ۱؎ اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پہ کوئی نماز اس سے زیادہ دشوار نہ تھی تب یہ آیت اتری کہ ساری نمازوں پرخصوصًادرمیانی نماز پرپابندی کروفرمایا اس سے پہلے دونمازیں ہیں اوراس کے بعد بھی دونمازیں۲؎ (احمدوابوداؤد) |
۱؎ یعنی جاڑوں میں اورگرمیوں میں پڑھتے ہوں تو کبھی کبھی بیان جواز کے لئے،کیونکہ گزشتہ احادیث میں گزر چکا کہ حضورسردیوں میں ظہر جلدی پڑھتے تھے اورگرمیوں میں دیرسے۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ "نمازوسطی"ظہرکی نمازہے یہ بھی ایک قول ہے،غالبًا حضرت ثابت یہ اپنے اجتہاد سے فرمارہے ہیں یعنی دن اور رات کی ایک ایک نمازظہر سے پہلے ہے عشاءوفجر،اور ایک ایک نمازظہر کے بعدعصرومغرب۔
|
638 -[15] وَعَن مَالك بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ كَانَا يَقُولَانِ:الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاة الصُّبْح. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ |
روایت ہے حضرت مالک سے انہیں خبرپہنچی کہ حضرت علی ابن ابن طالب اورعبداﷲ ابن عباس فرماتے تھے کہ درمیانی نمازفجر کی نمازہے ۱؎ (مؤطا) |
۱؎ ان بزرگوں کے نزدیک وسطی بمعنی افضل ہے جیسے"وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا"یعنی چونکہ یہ نمازبہت وجہوں سے باقی نمازوں سے افضل ہے،لہذانماز وسطیٰ یہی ہے۔خیال رہے کہ علی مرتضی خود ہی حضور سے روایت کرچکے ہیں کہ نماز وسطیٰ عصر ہے،یہاں فجر کو وسطی فرمانا دوسرے معنی سے ہے،لہذا آپ کے اس قول پرکوئی اعتراض نہیں ہوسکتا کہ حضرت شیرخدانے پہلے یہ فرمایا ہوپھرگزشتہ حدیث مرفوع سن کر اس سے رجوع کرلیا ہو۔
|
639 -[16] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيّ عَن ابْن عَبَّاس وَابْن عمر تَعْلِيقا |
اور ترمذی نے حضرت ابن عباس اور ابن عمر سے تعلیقًا روایت کیا۔ |
|
640 -[17] وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ غَدَا إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ غَدَا بِرَايَةِ الْإِيمَانِ وَمَنْ غَدَا إِلَى السُّوقِ غَدَا بِرَايَةِ إِبْلِيسَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه |
روایت ہے حضرت سلمان سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سناکہ جو فجرکی نمازکی طرف گیا وہ ایمان کا جھنڈالے گیا اورجو سویرے ہی بازارکی طرف گیا وہ شیطان کاجھنڈالے گیا ۱؎ (ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی انسانوں کے دو ٹولے ہیں:"حزب اﷲ"اور "حزب الشیطان"۔ان کی شناخت یہ ہے کہ رحمانی ٹولہ والے دن کی ابتداء نماز اور اﷲ کے ذکر سے کرتے ہیں اورشیطانی ٹولہ والے بازار و دنیاوی کاروبارسے۔خیال رہے کہ دنیوی کاروبار منع نہیں مگرسویرے اٹھتے ہی نہ خدا کا نام نہ اس کی عبادت بلکہ ان میں لگ جانایہ شیطانی کام ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع