30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
626 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي فَيَقُولُونَ تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يصلونَ وأتيناهم وهم يصلونَ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں رات اور دن کےفرشتے باری باری سے آتے ہیں اورفجراور عصرکی نمازوں میں جمع ہوجاتے ہیں ۱؎ پھرجوتم میں رات گزاریں وہ چڑھ جاتے ہیں۲؎ ان سے ان کا رب پوچھتاہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتاہے کہ تم نے میرے بندوں کوکس حال میں چھوڑا۳؎ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں نمازپڑھتے چھوڑا اورجب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نمازپڑھ رہے تھے۴؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یہاں فرشتوں سے مرادیاتو اعمال لکھنے والے دو فرشتے ہیں یا انسان کی حفاظت کرنے والے ساٹھ فرشتے۔ہر نابالغ کے ساتھ ساٹھ فرشتے رہتے ہیں اور بالغ کے ساتھ۶۲،اسی لئے نماز کے سلام اور دیگر سلاموں میں ان کی نیت کی جاتی ہے،ان ملائکہ کی ڈیوٹیاں بدلتی رہتی ہیں دن میں اور رات میں مگر فجروعصرمیں پچھلے فرشتے جانے نہیں پاتے کہ اگلے ڈیوٹی والے آجاتے ہیں تاکہ ہماری ابتداءوانتہا کے گواہ زیادہ ہوں۔
۲؎ اپنے ہیڈکوارٹرکی طرف جہاں ان کا مقام ہے۔
۳؎ یہ سوال یا تو ان فرشتوں کوگواہ بنانے کے لئے ہے یانمازوں کی عظمت ان کے دلوں میں قائم کرنے کے لئے کیونکہ انسان کی پیدائش کے وقت فرشتوں نے کہاتھا کہ اے رب تو فسادی اورخون ریزیاں کرنے والوں کو خلافت کیوں دے رہا ہے؟معلوم ہوا کہ پوچھنا بے علمی کی دلیل نہیں اگرحضور نے کسی سے کوئی بات پوچھی تو اس سے آپ کی بے علمی ثابت نہیں ہوتی۔
۴؎ اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ فرشتے نمازیوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں کہ آس پاس کی نیکیوں کاذکراور درمیان کے گناہوں سے خاموشی یا یہ مطلب ہے کہ اے مولاجن بندوں کی ابتداءاورانتہا ایسی اعلی ہو ان کے درمیانی اعمال بھی اچھے ہوں گے،جس دکان کی بونی اچھی ہو اس میں ہمیشہ برکت ہی رہتی ہے۔
|
627 -[4] وَعَن جُنْدُب الْقَسرِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ يُدْرِكْهُ ثُمَّ يَكُبُّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ».رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي بَعْضِ نُسَخِ الْمَصَابِيحِ الْقشيرِي بدل الْقَسرِي |
روایت ہے حضرت جندب قسری سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جوفجر کی نماز پڑھ لے وہ اﷲ کی امان میں ہے ۱؎ لہذا تم سے اﷲ اپنی امان کے بارے میں کچھ مواخذہ نہ کرے۲؎کیونکہ اﷲ تعالٰی جب کسی سے اپنے عہد کا مواخذہ کرے گا تو اسے پکڑلے گا پھر اسے اوندھے منہ دوزخ کی آگ میں ڈال دے گا(مسلم)اورمصابیح کے بعض نسخوں میں بجائے قسری کے قشیری ہے۔ |
۱؎ یعنی فجرکی نماز پڑھنے والا اﷲ کی امان میں ایساہوتاہے جیسے ڈیوٹی کا سپاہی حکومت کی امان میں کہ اس کی بے حرمتی حکومت کامقابلہ ہے۔خیال رہے کہ کلمہ کی امان اورقسم کی ہے اورنماز کی امان اورقسم کی،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
۲؎ یعنی ایسا نہ ہوکہ تم نمازی کوستاؤ اورقیامت میں سلطنت الہیہ کے باغی بن کرپکڑے جاؤ۔
|
628 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأتوهما وَلَو حبوا» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرلوگ جان لیں کہ اذان اورپہلی صف میں کیا ثواب ہے ۱؎ پھربغیر قرعہ ڈالے اسے نہ پاسکیں تو قرعہ ہی ڈالیں ۲؎ اوراگر جانتے کہ دوپہری کی نمازمیں کیاثواب ہے تو اس کی طر ف دوڑکر آتے۳؎ اوراگرجانتے کہ عشاءاورفجر میں کیا ثواب ہے تو ان میں گھسٹتے ہوئے بھی پہنچتے ۴؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع