30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اگرچہ شروع کتاب الصلوۃ میں نمازکے فضائل آچکے ہیں،لیکن وہاں نماز کے فضائل تھے یہاں نماز کے اوقات کے،اسی لئے اس کا الگ باب باندھا اور یہ باب"باب الاوقات"کے بعد رکھا۔
|
624 -[1] عَن عمَارَة بن روبية قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا» يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعصر. (رَوَاهُ مُسلم) |
روایت ہے حضرت عمارہ ابن روبیہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ شخص آگ میں ہرگز داخل نہ ہوگا جو سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے کی نمازیں پڑھتا رہے یعنی فجراورعصر ۱؎ (مسلم) |
۱؎ اس کے دومطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ فجروعصرکی پابندی کرنے والا دوزخ میں ہمیشہ رہنے کے لئے نہ جائے گا،اگر گیا تو عارضی طورپر،لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ بعض لوگ قیامت میں نمازیں لے کر آئیں گے مگر ان کی نمازیں اہل حق کو دلوادی جائیں گی۔دوسرے یہ کہ فجروعصر کی پابندی کرنے والوں کو ان شاءاﷲ باقی نمازوں کی بھی توفیق ملے گی اورسارے گناہوں سے بچنے کی بھی کیونکہ یہی نمازیں زیادہ بھاری ہیں جب ان پر پابندی کرلی تو ان شاءاﷲ بقیہ نمازوں پربھی پابندی کرے گا،لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ نجات کے لئے صرف یہ دونمازیں ہی کافی ہیں باقی کی ضرورت نہیں۔خیال رہے کہ ان دونمازوں میں دن رات کے فرشتے جمع ہوتے ہیں،نیز یہ دن کے کناروں کی نماز یں ہیں،نیز یہ دونوں نفس پرگراں ہیں کہ صبح سونے کا وقت ہے اور عصرکاروبارکے فروغ کا،لہذا ان کا درجہ زیادہ ہے۔
|
625 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ» |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جودوٹھنڈی نمازیں پڑھا کرے جنت میں جائے گا ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ ٹھنڈی نمازوں سے مرادیافجروعشاءہے یا فجروعصرباقی تفسیر ابھی گزرچکی۔
|
626 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي فَيَقُولُونَ تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يصلونَ وأتيناهم وهم يصلونَ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں رات اور دن کےفرشتے باری باری سے آتے ہیں اورفجراور عصرکی نمازوں میں جمع ہوجاتے ہیں ۱؎ پھرجوتم میں رات گزاریں وہ چڑھ جاتے ہیں۲؎ ان سے ان کا رب پوچھتاہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتاہے کہ تم نے میرے بندوں کوکس حال میں چھوڑا۳؎ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں نمازپڑھتے چھوڑا اورجب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نمازپڑھ رہے تھے۴؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع