دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

17 -[16] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ الْقَوْمُ؟ أَوْ: مَنِ الْوَفْدُ؟ " قَالُوا: رَبِيعَةُ. قَالَ: " مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ: بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى ". قَالُوا: يَا رَسُول الله إِنَّا لَا نستطيع أَن نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فصل نخبر بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ عَنِ الْأَشْرِبَةِ. فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمُسَ»

وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَقَالَ:«احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ» وَلَفظه للْبُخَارِيّ

روایت ہے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ قبیلہ عبدالقیس کا نمایندہ وفد ۲؎جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم کون قوم یا کون وفد ہو عرض کیا ہم ربیعہ ہیں۳؎فرمایا یہ وفد یا قوم خوب اچھے آگئے کہ نہ رسوا ہوئے نہ شرمندہ ۴؎عرض کیا یارسول اﷲ ہم آپ تک صرف محترم مہینہ میں آسکتے ہیں۵؎ کیونکہ ہمارے آپ کے درمیان کفار مضر کا قبیلہ حائل ہے۶؎  لہذا ہمیں فیصلہ کُن خبر فرمادیں جس کی خبر ہم اپنے پیچھے والوں کوبھی دے دیں اور ہم جنت میں بھی پہنچ جائیں۷؎ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شرابوں کے متعلق پوچھا تو حضور نے انہیں چارچیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا۔اﷲ پر ایمان لانے کا حکم فرمایا کیا جانتے ہوصرف اﷲ پر ایمان لانا کیا ہے وہ بولے اﷲ اور رسول جانیں۸؎ فرمایا یہ گواہی دینا کہ اﷲ کے سواء کوئی لائق عبادت نہیں اورمحمد اﷲ کے رسول ہیں۹؎ اور نماز قائم رکھنے زکوۃ دینے رمضان کے روزے کا۱۰؎  اور فرمایا کہ غنیمت میں سے پانچواں حصہ حاضرکرو ۱۱؎  اور چار چیزوں سے منع فرمایا ٹھلیا سے،تونبی سے،لکڑی کی دوری سے اور تارکول والے پیالے سے۱۲؎ فرمایا یہ خود بھی یاد کرلو دوسروں کو اس کی خبر دے دو۱۳؎ (مسلم و بخاری)لفظ بخاری کے ہیں۔

۱؎  آپ کا نام عبداﷲ ابن عباس ابن عبدالمطلب ہے،حضور کے چچازادہیں،آپ کی والدہ لبابہ بنت حارث یعنی امیرالمؤمنین میمونہ کی ہمشیرہ ہیں،آپ ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے،جب تیرہ سالہ تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی،آپ کا لقب حبرامت ہے یعنی امت اسلامیہ کے بڑے عالم،تفسیر قرآن کے امام ہیں،آخر عمر میں نابینا ہوگئے تھے، ۶۸ھ؁میں بمقام طائف ۷۱ برس عمر شریف میں وصال ہوا،طائف میں مزار شریف ہے فقیر نے زیارت کی ہے۔

۲؎  وفدقوم کے وہ نمائندے کہلاتے ہیں جو اپنی قوم کی طرف سے سلطان یا امیر کی خدمت میں کچھ پیام سلام لے کر حاضر ہوں یا ان کی طرف سے عہد وفاداری کریں۔یہ چودہ حضرات تھے  جو قبیلہ عبدالقیس کی طرف سے ایمان لائے اورحضورسے احکام اسلام معلوم کرنےحاضرہوئے تھے یہ قبیلہ بحرین،قطیف،ہجروغیرہ بستیوں میں آباد تھا،عبدالقیس ان کے جد کا نام تھا۔جن کا سلسلہ نسب ربیعہ ابن نزار ابن معدابن عدنان تک پہنچتا ہے،اس لیے اس قبیلہ کو عبدالقیس بھی کہتے ہیں اور ربیعہ بھی۔

۳؎  یہ سوال و جواب لوگوں کو سنانے کے لئے ہے حضور تو واقف تھے۔مرقات میں اسی جگہ ہے کہ یہ وفد جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو حضور نے حاضرین کو خبر دی کہ وفد عبدالقیس آرہا ہے  جو مشرق کے بہترین لوگوں میں سے ہے،ان میں اشج بھی ہے جس کا نام منذر ہے۔پوچھنا بے علمی سے ہی نہیں ہوتا رب نے پوچھا تھا:"وَمَا تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی"۔

۴؎  یہ کلمات یا دعائیہ ہیں یعنی خدا کرے تمہیں کبھی رسوائی و شرمندگی نہ ہو یا خبر ہے یعنی اچھا ہوا تم خوشی سے اسلام لاکر حاضر ہوگئے،ورنہ کچھ عرصہ بعدلشکر اسلام تمہارا ملک فتح کرتا پھر تمہیں شرمندگی اور رسوائی ہوتی،اب عزت سے ایمان لے آئے۔

۵؎  یہاں جنسی مہینہ مراد ہے یعنی ہم سال میں صرف ۴ محترم مہینوں میں ہی سفر کرکے آپ تک پہنچ سکتے ہیں۔ماہ حرام۴تھے رجب، ذیقعدہ،ذی الحجہ،محرم۔ان مہینوں میں کفاربھی قتل و غارت نہیں کرتے تھے،راستوں میں امن رہتی تھی،سفر بآسانی ہوتے تھے،اس لیے یہ عرض کررہے ہیں۔

۶؎ جو باقی مہینوں میں لوٹ مار کرتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے سفر بند رہتے ہیں۔

۷؎  یعنی ان عقائد و اعمال کی وجہ سے ہم پر اﷲ فضل کرے،جنت بخشے۔خیال رہے کہ جنت اﷲ کے فضل سے ملے گی،یہ اعمال اسی فضل کے حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔

۸؎ یہ ادبًا عرض کیا ورنہ یہ لوگ ایمان لاچکے تھے،مؤمن ایمان سے بے خبر نہیں ہوتا۔(مرقات)صحابہ کا یہ ادب تھا کہ ان کو علم بھی ہوتا مگر حضور پر پیش قدمی نہ کرتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور کو اﷲ نے بہت علم بخشا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن