دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 1 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول

616 -[30]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ: «إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِرُونِ صَلَاةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ» ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاة وَصلى. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم ایک رات آخری عشاء کی نماز کے لئے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   کا انتظار کرتے ہوئے بہت بیٹھے ۱؎  آپ تب تشریف لائے جب تہائی رات گزر گئی یا اس کے بھی بعدہمیں خبرنہیں کہ حضور کوکسی کام نے اپنے گھرمیں روک رکھایاکچھ اورسبب تھا۲؎  جب تشریف لائے تو فرمایا کہ تم ایسی نماز کا انتظار کررہے ہوجس کا تمہارے سوا کوئی دین والا انتظار نہیں کررہا ہے۳؎  اگرمیری امت پرگراں نہ ہوتا تو میں ان کو یہ نماز اس ہی وقت پڑھایاکرتا۴؎  پھر مؤذن کو حکم دیا انہوں نے نمازکی تکبیرکہی اورنماز پڑھی۔(مسلم)

۱؎   خیال رہے کہ نماز پڑھنابھی عباد ت اورنماز کا انتظاربھی،خصوصًا نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظارکرنابہترین عبادت ہے۔اس سے صحابہ کا ادب معلوم ہوا کہ وہ حضرات کبھی حضورکو نہ پکارکربلاتے تھے نہ نمازیوں کے جمع ہوجانے کی خبردیتے تھے،وہ سمجھتے تھے کہ خبیرکوخبر دینا کیا،نیز قرآن کریم نے پکارکربلانے والوں کوبے عقل قراردیافرمایا ہے:" اِنَّ الَّذِیۡنَ یُنَادُوۡنَکَ"الخ۔صحابہ کرام حضورکونمازکے لئے جگاتے بھی نہ تھے۔

۲؎  کیونکہ نہ حضور نے دیرکی وجہ بتائی اور نہ بے ادبی کے خوف سے ہم نے پوچھی۔اس سے معلوم ہوا کہ مریدمرشدسے ہربات پوچھا نہ کرے صبرسے کام لیاکرے۔خضرعلیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ تم میرے کسی عمل پر سوال مت کرنا۔

۳؎  یعنی تمہارا یہ انتظاربھی عبادت ہے اور اس انتظار میں اب تک جاگنا،مسجد میں بیٹھنا،مشقت اٹھانا سب عبادت،اتنی عبادت کامجموعہ کسی نبی کونصیب نہیں ہوا۔اس حدیث کی بناءپربعض علماءفرماتے ہیں کہ عشاء عصر سے بھی افضل ہے۔

۴؎  معلوم ہورہاہے کہ بمقابلہ اوردن کے آج عشاءزیادہ دیر میں پڑھی گئی تھی،نماز پڑھانے سے مراد ان کو اس وقت پڑھنے کا حکم دیناہے۔

617 -[31]

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ صَلَاتكُمْ شَيْئا وَكَانَ يخف الصَّلَاة. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابربن سمرہ سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں تمہاری ہی نمازوں کی طرح پڑھتے تھے ۲؎  لیکن عشاءکی نماز تمہاری نمازسے کچھ دیرمیں پڑھتے تھے۳؎   اورنمازہلکی پڑھتے تھے۴؎(مسلم)

۱؎   آپ خودبھی صحابی ہیں،والدبھی صحابی،حضرت سعدابن ابی وقاص کے بھانجے ہیں،کوفہ میں قیام رہا، ۶۴ھ؁  یا    ۶۶ھ؁ میں وفات پائی۔

۲؎   یہ تابعین سے خطاب ہے،یہ حضرات آپ سے حضورکی نمازکے اوقات پوچھتے تھے تو آپ یہ جواب دیتے تھے کہ تم نمازیں صحیح وقت پر پڑھ رہے ہوحضوربھی ان ہی اوقات میں پڑھتے تھے۔

۳؎  خیال رہے کہ عشاءکوعتمہ کہنا منع ہے۔یا توحضرت جابرکو اس ممانعت کا علم نہیں ہوایاوہ لوگ عشاءکا مطلب سمجھتے نہ تھے،عتمہ  کہنے سے سمجھتے تھے،جیسے پنجاب کے دیہاتی عصرکو دیگر،اورعشاءکو خفتاں کہنے سے سمجھتے ہیں۔

۴؎  یعنی جب نمازپڑھاتے تو ہلکی کرتے اپنی اکیلی نماز بہت دراز پڑھتے تھے جیسےتہجد وغیرہ اوریہ بھی اکثری ہے،ورنہ کبھی حضورنے مغرب میں سورۂ اعراف پڑھی ہے مگرکتنی ہی درازپڑھتے صحابہ کوہلکی معلوم ہوتی۔

618 -[32]

وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَتَمَة فَلم يخرج إِلَيْنَا حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ فَقَالَ: «خُذُوا مَقَاعِدَكُمْ» فَأَخَذْنَا مَقَاعِدَنَا فَقَالَ: «إِنَّ النَّاسَ قد صلوا وَأخذُوا مضاجعهم وَإِنَّكُمْ لم تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَ سَقَمُ السَّقِيمِ لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

روایت ہے حضرت ابوسعیدسے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اﷲ  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاءکی نمازپڑھی پس تشریف نہ لائے حتی کہ قریبًا آدھی رات گزرگئی ۱؎  پھرفرمایا اپنی جگہ بیٹھے رہو چنانچہ ہم اپنی جگہ بیٹھے رہے پھرفرمایاکہ لوگ نماز پڑھ چکے اوراپنے بستروں پر چلے گئے۲؎   اورتم نماز ہی میں رہے جب تک کہ نماز کا انتظارکرتے رہے اوراگر کمزوروں کی کمزوری اوربیماروں کی بیماری نہ ہوتی تو میں اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر(پیچھے) کردیتا ۳؎(ابوداؤد،نسائی)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن