30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
614 -[28] وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَلَيْسَ عِنْدَ النَّسَائِيِّ: «فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ» |
روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں فرمایارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجرروشنی میں پڑھوکیونکہ اس کا ثواب بڑا ہے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد،دارمی)۲؎ اورنسائی کے نزدیک یہ نہیں ہے کہ اس کا ثواب بڑا ہے۔ |
۱؎ یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ فجر اجیالے میں پڑھنی چاہیئے۔خیال رہے کہ تاریکی میں فجر پڑھنے کی عملی حدیثیں تو ہیں مگرقولی حدیث کوئی نہیں۔ان احادیث میں احتمال ہے کہ شایدمسجد کی تاریکی ہوتی ہو نہ کہ وقت کی مگر اس حدیث میں کوئی تاویل نہیں ہوسکتی،اسی لئےصحابہ کرام فجراجیالے میں پڑھتے تھے،جیسا کہ بہت احادیث سے ثابت ہے۔ہم نے وہ احادیث اپنی کتاب "جاء الحق"حصہ دوم میں جمع کی ہیں۔اس حدیث کی تائیددوچیزوں سے ہوتی ہے:ایک یہ کہ مسلم،بخاری نے سیدنا ابن مسعودسے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں فجرکی نماز روزانہ کے وقت سے پہلے پڑھی تو اگرحضور روز پوپھٹتے ہی فجر پڑھتے ہوتے تو آج مزدلفہ میں کس وقت پڑھی؟کیا وقت شروع ہونے سے پہلے پڑھ لی؟ لہذا اس حدیث کا یہی مطلب ہوگا کہ روزانہ اجالے میں پڑھتے تھے آج اندھیرے میں پڑھی،یہی حنفیوں کا مذہب ہے۔دوسرے یہ کہ نمازفجربہت چیزوں میں نمازمغرب کے حکم میں ہے،مغرب میں اجالا سنت ہے تو یہاں بھی اجالا ہی چاہئے،ہاں وہاں اجالا اول وقت ہوتا ہے،فجر میں آخر وقت۔اس کی پوری بحث "جاء الحق"میں دیکھو۔
۲؎ ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے،نیز یہ حدیث ابن ماجہ،بیہقی،ابوداؤد،طیالسی اورطبرانی میں بھی ہے۔
|
615 -[29] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: «كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْس» |
روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں کہ ہم عصر کی نماز رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے پھر اونٹ ذبح کیاجاتاپھراس کے دس حصے کئے جاتے پھرپکایاجاتا ہم سورج ڈوبنے سے پہلے بھناگوشت کھالیتے ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ تجربہ شاہد ہے کہ اہلِ عرب جانورذبح کرنے اورگوشت بنانے میں بہت تیز وماہرہیں۔فقیر نے اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ تو دومثل کے بعدعصر پڑھ کریہ سارے کام بخوبی ہوسکتے ہیں،خصوصًاگرمیوں میں کہ اس زمانہ میں وقت عصرقریبًا دوگھنٹہ ہوتا ہے،لہذا اس حدیث سے ایک مثل پرعصر پڑھنا ہرگز ثابت نہیں ہوتا،نیز جوان اونٹ کا گوشت جلدی گلتا ہے،اور بعض ماہر پکانے والے جلدی گلا لیتے ہیں،پاکستانی قصائی اورباورچی اتنے کام سارے دن میں نہیں کرسکتے۔
|
616 -[30] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ: «إِنَّكُمْ لَتَنْتَظِرُونِ صَلَاةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ» ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاة وَصلى. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم ایک رات آخری عشاء کی نماز کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے ہوئے بہت بیٹھے ۱؎ آپ تب تشریف لائے جب تہائی رات گزر گئی یا اس کے بھی بعدہمیں خبرنہیں کہ حضور کوکسی کام نے اپنے گھرمیں روک رکھایاکچھ اورسبب تھا۲؎ جب تشریف لائے تو فرمایا کہ تم ایسی نماز کا انتظار کررہے ہوجس کا تمہارے سوا کوئی دین والا انتظار نہیں کررہا ہے۳؎ اگرمیری امت پرگراں نہ ہوتا تو میں ان کو یہ نماز اس ہی وقت پڑھایاکرتا۴؎ پھر مؤذن کو حکم دیا انہوں نے نمازکی تکبیرکہی اورنماز پڑھی۔(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع